حصہ ملتا ہے۔(1)
وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ زَہۡرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۬ۙ لِنَفْتِنَہُمْ فِیۡہِ ؕ وَ رِزْقُ رَبِّکَ خَیۡرٌ وَّ اَبْقٰی ﴿۱۳۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لئے دی ہے جیتی دنیا کی تازگی کہ ہم انہیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے دیرپا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے سننے والے! ہم نے مخلوق کے مختلف گروہوں کو دنیا کی زندگی کی جوتروتازگی فائدہ اٹھانے کیلئے دی ہے تاکہ ہم انہیں اس بارے میں آزمائیں تو اس کی طرف تو اپنی آنکھیں نہ پھیلا اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والاہے۔
{وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی:اوراس کی طرف تو اپنی آنکھیں نہ پھیلا۔} اس آیت میں بظاہر خطاب نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ہے اور اس سے مراد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے سننے والے! ہم نے کافروں کے مختلف گروہوں جیسے یہودیوں، عیسائیوں اور مشرکوں وغیرہ کودنیا کا جو ساز و سامان فائدہ اٹھانے کیلئے دیا ہے وہ اس وجہ سے دیا ہے تاکہ ہم انہیں اس کے سبب اس طرح آزمائش میں ڈالیں کہ ان پر جتنی نعمت زیادہ ہو اتنی ہی ان کی سرکشی اور ان کا طُغیان بڑھے اور وہ سزائے آخرت کے سزاوار ہوں ،لہٰذا تو تعجب اور اچھائی کے طور پر اس کی طرف اپنی آنکھیں نہ پھیلا اور آخرت میں تیرے ربعَزَّوَجَلَّ کا رزق جنت اور ا س کی نعمتیںسب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا رزق ہے۔(2)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…صاوی، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۴/۱۲۸۷۔
2…البحر المحیط، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۱، ۶/۲۶۹، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۱،ص۷۰۷، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۱، ۳/۲۶۹-۲۷۰، ملتقطاً۔