Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
260 - 695
گئی ہے ۔ بعض مفسرین سورج غروب ہونے سے پہلے سے نمازِ عصر اور دن کے کناروں سے نمازِ ظہر مراد لیتے ہیں ، ان کی تَوجیہہ یہ ہے کہ نمازِ ظہر زوال کے بعد ہے اور اس وقت دن کے پہلے نصف اور دوسرے نصف کے کنارے ملتے ہیں اور یہاں پہلے نصف کی انتہا اور دوسرے نصف کی ابتدا ہے۔(1)
{لَعَلَّکَ تَرْضٰی: اس امید پر کہ تم راضی ہوجاؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان اوقات میں اس امید پر اللّٰہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے رہیں کہ آپ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و عطا اور اس کے انعام و اِکرام سے راضی ہوں، آپ کو امت کے حق میں شفیع بنا کر آپ کی شفاعت قبول فرمائے اور آپ کو راضی کرے۔(2)
اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی رضا چاہتا ہے :
	علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کے تحت اپنی مشہور کتاب تفسیر صاوی میں فرماتے ہیں :اے بندے! اس لطف و کرم والے خطاب کو دیکھ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ربُّ العالَمین عَزَّوَجَلَّ کے حبیب ہیں اور ساری مخلوق سے افضل ہیں کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان سے یوں نہیں ارشاد فرمایا ’’تاکہ میں آپ سے راضی ہو جاؤں۔یونہی اس طرح کا کوئی اور کلام نہیں فرمایا (جیسے یوں نہیں فرمایا ’’تاکہ آپ کو میری رضا حاصل ہو جائے) بلکہ یوں ارشاد فرمایا ہے ’’لَعَلَّکَ تَرْضٰی‘‘ یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، تاکہ آپ راضی ہو جائیں۔ اور یہاں نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا یہ فرمان بھی ملحوظ رہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے ‘‘اور حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا یہ قول بھی پیش ِنظر رہے (جس میںآپ اپنے پیارے محبوب سے عرض کرتی ہیں :یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،) میں حضور کے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھتی ہوں کہ وہ حضور کی خواہش میں جلدی فرماتا ہے۔‘‘ پس رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نماز کا حکم ا س لئے نہیں دیا گیا کہ ان کی کوئی خطا ہے جو معاف ہو جائے یا اس لئے نہیں دیا گیا نماز ادا کرنے کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ ان سے راضی ہو جائے بلکہ اس لئے دیاگیا ہے تاکہ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ راضی ہو جائیں کیونکہ نماز میں حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے ربعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضری دیتے ہیں جو کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور اس امت کے کامل عارف اولیاءِ کرام کو بھی اس مقام سے کچھ 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ص۷۰۷، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۳/۲۶۹، ملتقطاً۔
2…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۵/۴۴۴-۴۴۵، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۳/۲۶۹۔