وَ قَبْلَ غُرُوۡبِہَا ۚ وَ مِنْ اٰنَآیِٔ الَّیۡلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّہَارِ لَعَلَّکَ تَرْضٰی ﴿۱۳۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے اور رات کی گھڑیوں میں اس کی پاکی بولو اور دن کے کناروں پر اس امید پر کہ تم راضی ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہو اور رات کی کچھ گھڑیوں میںاور دن کے کناروں پر (بھی اللّٰہ کی) پاکی بیان کرو، اس امید پر کہ تم راضی ہوجاؤ۔
{فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ:تو آپ ان کی باتوں پر صبر کریں۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کو جھٹلانے والوں سے عذاب مؤخر کر کے ہم نے انہیں مہلت دی ہے ، اب اگر یہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تو ضرور عذاب میں مبتلا ہوں اس لئے آپ ان کی دل آزار باتوں پر صبر کرتے رہیں یہاں تک کہ ان کے بارے میں کوئی حکم نازل ہو جائے۔(1)
{وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ:اوراپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہو۔} یہاں سے سورج طلوع ہونے سے پہلے ، غروب ہونے سے پہلے ، رات کی کچھ گھڑیوں میںاور دن کے کناروں پر حمد کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنے کا حکم دیا گیا، سورج طلوع ہونے سے پہلے پاکی بیان کرنے سے مراد نمازِفجر ادا کرنا ہے ۔ سورج غروب ہونے سے پہلے پاکی بیان کرنے سے مراد ظہر و عصر کی نمازیں ادا کرنا ہیں جو کہ دن کے دوسرے نصف میں سورج کے زوال اور غروب کے درمیان واقع ہیں ۔ رات کی کچھ گھڑیوں میں پاکی بیان کرنے سے مغرب اور عشا کی نمازیں پڑھنا مراد ہے۔ دن کے کناروں میں پاکی بیان کرنے سے فجر اور مغرب کی نمازیں مراد ہیں اور یہاں تاکید کے طور پر ان نمازوں کی تکرار فرمائی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۵/۴۴۴۔