اور آپ پر ایمان نہ لائیں گے توان پر دنیا میں ویسا عذاب نہیں آئے گا جیسا پچھلی امتوں کے کفار پر نازل کیا گیا تھا کہ ان کی تمام بستیاں تباہ و برباد کر دی جائیں اور ان میں سے کوئی کافر زندہ نہ بچے، مفسرین نے اس کی چند وجوہات بھی بیان کی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں :
(1)… اللّٰہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ ان جھٹلانے والوں میں سے بعض کفارایمان لے آئیں گے اس لئے ان پر ویسا عذاب نازل نہ ہو گا۔
(2)…اللّٰہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ان جھٹلانے والوں کی نسل میں کچھ ایسے لوگ پیداہوں گے جومسلمان ہوجائیں گے، اس لئے اگران پرعذاب نازل کردیاجائے تووہ لوگ بھی ہلاک ہوجائیں گے ۔
(3)…بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس میں کوئی مصلحت پوشیدہ ہے جواللّٰہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔
(4)…اللّٰہ تعالیٰ مالک ومولیٰ ہے جسے چاہے عذاب دے اورجسے چاہے اپنے فضل کی وجہ سے عذاب سے مُستثنیٰ کردے۔(1)
(5)…علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’بے شک اللّٰہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ وہ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اِکرام کی وجہ سے ان کی امت سے عذابِ عام کو مُؤخَّر فرما دے گا اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو اس امت پر بھی ویسا ہی عذاب نازل ہوتا جیسا سابقہ امتوں پر نازل ہوا تھا۔(2)
عذاب مؤخر کرنے کی ایک حکمت یہ ہے کہ جس نے (اپنے کفر و مَعاصی سے) توبہ کرنی ہے وہ توبہ کر لے اور جو (اپنے کفر و معاصی پر) قائم رہنا چاہتا ہے اس کی حجت ختم ہو جائے لہٰذا ہر عقلمند مُکَلَّف کو چاہئے کہ وہ قرآن مجید کی نصیحتوں سے نصیحت حاصل کرے اور قادر و حکیم رب تعالیٰ سے ڈرے اور اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور ا س کی بارگاہ میں سرِ تسلیم خم کرنے کی بھرپور کوشش کرے اور انسان ہونے، اشرفُ المخلوقات ہونے اور تمام مصنوعات میں سب سے بہترین ہونے کے باوجود جمادات سے بھی برا نہ بنے کہ قرآن پاک میں ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے خوف سے پتھر بھی اپنی جگہ سے گر جاتے ہیں اور ان سے بھی پانی جاری ہوتا ہے۔
فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوۡعِ الشَّمْسِ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرکبیر، طہ، تحت الآیۃ: ۱۲۹، ۸/۱۱۲۔
2…صاوی، طہ، تحت الآیۃ: ۱۲۹، ۴/۱۲۸۶۔