Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
257 - 695
{اَفَلَمْ یَہۡدِ لَہُمْ:تو کیا انہیں اس بات نے ہدایت نہ دی۔} ارشاد فرمایا کہ کیا کفارِقریش کو اس بات نے ہدایت نہ دی کہ ہم نے ان سے پہلے رسولوں کو نہ ماننے والی کتنی قومیں ہلاک کردیں جن کی رہائش کی جگہوں میں یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں اور اپنے سفروں میں ان کے علاقوں سے گزرتے اور ان کی ہلاکت کے نشان دیکھتے ہیں۔بیشک سابقہ قوموں کو عذاب کے ذریعے ہلاک کر دینے میں ان عقل والوں کیلئے نشانیاں ہیں جو عبرت حاصل کریں اور یہ سمجھ سکیں کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تکذیب اور ان کی مخالفت کا انجام برا ہے۔(1)
وَلَوْلَاکَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَکَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّی ﴿۱۲۹﴾ؕ
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر تمہارے رب کی ایک بات نہ گزر چکی ہوتی تو ضرور عذاب انھیں لپٹ جاتا اور اگر نہ ہوتا ایک وعدہ ٹھہرایا ہوا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے (طے) نہ ہو چکی ہوتی اور ایک مقررہ مدت نہ ہوتی تو ضرور عذاب انہیں لپٹ جاتا ۔
{وَلَوْلَاکَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ:اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہو چکی ہوتی۔} ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ ہو چکی ہوتی کہ محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی امت ِ دعوت کے عذاب میں قیامت تک تاخیر کی جائے گی اور سابقہ امتوں کی طرح جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دینے والا عذاب ان پر نازل نہیں کیا جائے گااور قیامت کے دن ان کے عذاب کی ایک مقررہ مدت نہ ہوتی تو ضرور عذاب انہیں دنیا ہی میں لپٹ جاتا۔(2)
اس امت پر عذابِ عام نہ آنے کی وجوہات:
	اس سے معلوم ہوا کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی امت میں سے جو لوگ آپ کو جھٹلائیں گے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۲۸، ۳/۲۶۹، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۲۸، ص۷۰۶، ملتقطاً۔
2…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۲۹، ۵/۴۴۳۔