ترجمۂکنزالایمان: فرمایا کہ تم دونوں مل کر جنت سے اترو تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے پھر اگر تم سب کو میری طرف سے ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہو ا وہ نہ بہکے نہ بدبخت ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ نے فرمایا: تم دونوں اکٹھے جنت سے اتر جاؤ، تمہارے بعض بعض کے دشمن ہوں گے پھر (اے اولادِ آدم) اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا تو وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبخت ہوگا۔
{قَالَ اہۡبِطَا مِنْہَا جَمِیۡعًا:فرمایا: تم دونوں اکٹھے جنت سے اترجاؤ۔} جب حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لغزش صادر ہوئی تو ا س کے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور حضرت حواء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے فرمایا: تم دونوں اپنی ذُرِّیَّت کے ساتھ مل کر اکٹھے جنت سے زمین کی طرف اترجاؤ، تمہاری اولاد میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے ،دنیا میں ایک دوسرے سے حسد اور دین میں اختلاف کریں گے، پھر اے اولادِ آدم! اگر تمہارے پاس میری طرف سے کتاب اور رسول کی صورت میں کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ دنیا میں نہ گمراہ ہوگا اور نہ آخرت میں بدبخت ہوگا کیونکہ آخرت کی بدبختی دنیا میں حق راستے سے بہکنے کا نتیجہ ہے تو جو کوئی اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب اوراس کے برحق رسول کی پیروی کرے اور ان کے حکم کے مطابق چلے وہ دنیا میں گمراہ ہونے سے اور آخرت میں اس گمراہی کے عذاب و وبال سے نجات پائے گا۔(1)
دنیا میں گمراہی اور آخرت میں بدبختی سے بچنے کا ذریعہ:
اِس سے معلوم ہوا کہ اِس امت کے لوگوں کا قرآنِ مجید میں دئیے گئے اَحکامات پر عمل کرنا اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اطاعت کرنا انہیں دنیا میں گمراہی سے بچائے گا اور آخرت میں بدبختی سے نجات دلائے گا، لہٰذا ہر ایک کو چاہئے کہ وہ قرآنِ مجید کی پیروی کرے اور حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اِتباع کرے تاکہ وہ گمراہ اور بدبخت ہونے سے بچ جائے ۔اللّٰہ تعالیٰ قرآن کریم کی پیروی کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۵/۴۴۰-۴۴۱، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ص۷۰۶، ملتقطاً۔