مقصد چاہا تھا وہ نہ پایا اور اس درخت کے کھانے سے انہیں دائمی زندگی نہ ملی۔(1)
انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عِصمت سے متعلق اہلسنّت و جماعت کا عقیدہ:
یاد رہے کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لغزش کا واقع ہونا ارادے اور نیت سے نہ تھا بلکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا ارادہ اور نیت حکم کو پورا کرنے اور اس چیز سے بچنے کا تھا جو جنت سے نکال دئیے جانے کا سبب بنے، لہٰذا کسی شخص کے لئے تاویل کے بغیر حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف نافرمانی کی نسبت کرنا جائز نہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے راضی ہے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد بھی اللّٰہ تعالیٰ کے کسی حکم کی مخالفت کرنے سے معصوم ہیں۔(2)
یہاں انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عِصمت سے متعلق اہلسنّت و جماعت کے عقیدے کے بارے میں اعلیٰ حضرت امام احمد ر ضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰیعَلَیْہِ کے ایک کلام کا خلاصہ ملاحظہ ہو ’’اہلِ حق یعنی اہلِ اسلام اور اہلسنّت وجماعت شاہراہِ عقیدت پر چل کر منزلِ مقصود کو پہنچے جبکہ سرکشی کرنے والے اور اہلِ باطل تفصیلات میں ڈوب کر اور ان میں ناحق غور کرکے گمراہی کے گڑھے اور بددینی کی گمراہیوں میں جا پڑے، انہوں نے کہیں دیکھا ’’وَعَصٰۤی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی‘‘ کہ اس میں عصیاں اور بظاہراللّٰہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے رو گردانی کی نسبت حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی جانب کی گئی ہے۔ کہیں سنا ’’لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ‘‘ جس سے ذنب یعنی گناہ اور ا س کی بخشش کی نسبت کا حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جنابِ والا کی جانب گمان ہوتا ہے۔ کبھی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور قومِ فرعون کے قطبی کا قصہ یاد آیا کہ آپ نے قطبی کو ظلم پر آمادہ پاکر ایک گھونسا مارا اور وہ قطبی (مر کر) قبر کی گہرائی میں پہنچا۔ کبھی حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اُن کے ایک اُمتی اور یّاہ کا فسانہ سن پایا حالانکہ یہ حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر یہودیوں کا الزام تھا جسے انہوں نے خوب اچھالا اور عوام الناس کی زبان پر عام ہوگیا حتّٰی کہ اس کی شہرت کی بنا پر احوال کی تحقیق اور تفتیش کے بغیر بعض مفسرین نے اس واقعہ کو من و عن بیان فرما دیا، جب کہ امام رازی فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ میری تحقیق میں سراسر باطل و لغو ہے۔ غرض بے عقل ،بے دینوں اور بے دین بدعقلوں نے یہ افسانہ سن پایا توچون و چرا
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۲۱، ۳/۲۶۶۔
2…صاوی، طہ، تحت الآیۃ: ۱۲۱، ۴/۱۲۸۳۔