Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
247 - 695
{فَوَسْوَسَ اِلَیۡہِ الشَّیۡطٰنُ:تو شیطان نے اسے وسوسہ ڈالا۔} اس سے پہلی آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عظمت بیان فرمائی کہ اس نے انہیں فرشتوں سے سجدہ کروایا اور اس کے بعد بیان فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی زوجہ حضرت حوا رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکو شیطان کی دشمنی کی پہچان کروا دی اور جنتی نعمتوں کی اہمیت بیان فرما دی اور اب اس آیت میں بیان فرمایا جا رہا ہے کہ شیطان نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو وسوسہ ڈالا اور کہنے لگا: اے آدم! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، کیا میں آپ کو ایک ایسے درخت کے بارے میں بتادوں جسے کھا کر کھانے والے کو دائمی زندگی حاصل ہو جاتی ہے اور ایسی بادشاہت کے متعلق بتادوں جو کبھی فنا نہ ہوگی اور اس میں زوال نہ آئے گا۔(1)
فَاَکَلَا مِنْہَا فَبَدَتْ لَہُمَا سَوْاٰتُہُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیۡہِمَا مِنۡ وَّ رَقِ الْجَنَّۃِ ۫ وَعَصٰۤی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی ﴿۱۲۱﴾۪ۖ
ترجمۂکنزالایمان: تو ان دونوں نے اس میں سے کھالیا اب ان پر ان کی شرم کی چیزیں ظاہر ہوئیں اور جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ان دونوں نے اس درخت میں سے کھا لیا تو ان پر ان کی شرم کے مقام ظاہر ہوگئے اور وہ جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مقصد چاہا تھا وہ نہ پایا۔ 
{فَاَکَلَا مِنْہَا:تو ان دونوں نے اس درخت میں سے کھالیا۔} ابلیس کے وسوسہ دلانے کے بعد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت حوا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے اس درخت میں سے کھا لیا تو ان کے جنتی لباس اتر گئے اور ان پر ان کی شرم کے مقام ظاہر ہوگئے اور وہ اپنا ستر چھپانے اور جسم ڈھانکنے کے لئے جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے اور درخت سے کھا کر حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّکے حکم میں لغزش واقع ہوئی توانہوں نے اس سے جو
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرکبیر، طہ، تحت الآیۃ: ۱۲۰، ۸/۱۰۷، جلالین، طہ، تحت الآیۃ: ۱۲۰، ص۲۶۸، ملتقطاً۔