Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
246 - 695
اس کی دشمنی کی دلیل قرار دیا گیا ہے ،یہاں اس دشمنی کی وجہ وضاحت سے بیان کی جاتی ہے ۔ جب ابلیس نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر اللّٰہ تعالیٰ کا انعام واکرام دیکھا تو وہ ان سے حسد کرنے لگا اور یہ حسد ا س کی دشمنی کا ایک سبب تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جسے کسی سے حسد ہو تو وہ اس کا دشمن بن جاتا ہے اور وہ اس کی ہلاکت چاہتا اور اس کا حال خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ 
 سورۂ طٰہٰ کی آیت نمبر 117 تا 119 سے حاصل ہونے والی معلومات:
	ان آیات سے تین باتیں معلوم ہوئیں
(1)… فضل و شرف والے کی فضیلت کو تسلیم نہ کرنا اور اس کی تعظیم و احترام بجا لانے سے اِعراض کرنا حسد و عداوت کی دلیل ہے۔
(2)… حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی مشہور جنت میں رکھے گئے تھے جو بعد ِقیامت نیکوں کو عطا ہو گی ،وہ کو ئی دُنْیَوی باغ نہ تھا کیونکہ اس باغ میں تو دھوپ بھی ہوتی ہے اور وہاں بھوک بھی لگتی ہے ۔
(3)…جنتی نعمتوں کی بڑی اہمیت ہے ،اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ ان نعمتوں کی قدر کرے اور شیطان کی پیروی کر کے ان عظیم نعمتوں سے خود کو محروم نہ کرے۔ 
فَوَسْوَسَ اِلَیۡہِ الشَّیۡطٰنُ قَالَ یٰۤـاٰدَمُ ہَلْ اَدُلُّکَ عَلٰی شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَّایَبْلٰی ﴿۱۲۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو شیطان نے اسے وسوسہ دیا بولا اے آدم کیا میں تمہیں بتادوں ہمیشہ جینے کا پیڑ اور وہ بادشاہی کہ پرانی نہ پڑے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو شیطان نے اسے وسوسہ ڈالا ، کہنے لگا: اے آدم! کیا میں تمہیں ہمیشہ رہنے کے درخت اور ایسی بادشاہت کے متعلق بتادوں جو کبھی فنا نہ ہوگی۔