Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
245 - 695
وَلَاتَضْحٰی ﴿۱۱۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو ہم نے فرمایا اے آدم بیشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہے تو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے ۔ بیشک تیرے لیے جنت میں یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہو نہ ننگا ہو۔ اور یہ کہ تجھے نہ اس میں پیاس لگے نہ دھوپ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ہم نے فرمایا، اے آدم! بیشک یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے تو یہ ہرگز تم دونوں کو جنت سے نہ نکال دے ورنہ تو مشقت میں پڑجائے گا۔ بیشک تیرے لیے جنت میں یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہوگا اور نہ ہی ننگا ہوگا۔اور یہ کہ نہ کبھی تو اس میں پیاسا ہوگا اور نہ تجھے دھوپ لگے گی۔ 
{فَقُلْنَا یٰۤـاٰدَمُ:تو ہم نے فرمایا، اے آدم!}اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ ابلیس کے انکار کے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے فرمایا ’’اے آدم! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، بیشک یہ ابلیس تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے، تو یہ ہرگز تم دونوں کو جنت سے نکال دئیے جانے کا سبب نہ بن جائے ورنہ تم مشقت میں پڑجاؤ گے اور اپنی غذا اور خوراک کے لئے زمین جوتنے ، کھیتی کرنے ، دانہ نکالنے ، پیسنے ، پکانے کی محنت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ بیشک تیرے لیے یہ ہے کہ تو جنت میں بھوکا نہیں ہوگا کیونکہ جنت کی تمام نعمتیں ہر وقت حاضر ہوں گی اور نہ ہی تو اس میں ننگا ہوگا کیونکہ تمام ملبوسات جنت میں موجود ہوں گے ،اور تیرے لئے یہ بھی ہے کہ تو جنت میں کبھی پیاسا نہ ہوگاکیونکہ اس میں ہمیشہ کے لئے نہریں جاری ہیں اور نہ تجھے جنت میں دھوپ لگے گی کیونکہ جنت میں سور ج نہیں ہے اور اہلِ جنت ہمیشہ رہنے والے دراز سائے میں ہوں گے، الغرض ہر طرح کا عیش و راحت جنت میں موجود ہے اور اس میں محنت اور کمائی کرنے سے بالکل امن ہے(لہٰذا تم شیطان کے وسوسوں سے بچ کر رہنا)۔(1)
شیطان کی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے دشمنی کی وجہ:
 	 آیت نمبر 117 میں شیطان کا حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سجدہ نہ کرنا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۷-۱۱۹،۳/۲۶۵-۲۶۶، روح البیان، طہ، تحت الآیۃ:۱۱۷-۱۱۹،۵/۴۳۵-۴۳۶، ملتقطاً۔