وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبْلِیۡسَؕ اَبٰی ﴿۱۱۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب سجدے میں گرے مگر ابلیس اس نے نہ مانا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو توابلیس کے سوا سب سجدے میں گرگئے، اس نے انکار کردیا۔
{وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوۡا لِاٰدَمَ:اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ وقت یاد کریں جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سجدہ کرو تو فرشتوں کے ساتھ رہنے والے ابلیس کے سوا سب فرشتے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے سجدے میں گرگئے اور ابلیس نے یہ کہہ کر حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوسجدہ کرنے سے انکار کردیا کہ میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بہتر ہوں۔(1)
تعظیم کے طور پر غیرِ خدا کو سجدہ کرنا حرام اور اس سے بچنا فرض ہے:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’سجدۂ تحیت، اگلی شریعتوں میں جائز تھا۔ ملائکہ نے بحکمِ الٰہی حضرت سیدنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو سجدہ کیا۔ حضرت سیدنا یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی زوجہ مقدسہ اور ان کے گیارہ صاحبزادوں نے حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کو سجدہ کیا۔ ۔۔۔ ہاں ہماری شریعت ِمطہرہ نے غیرِ خدا کے لئے سجدۂ تحیت حرام کیا ہے اس سے بچنا فرض ہے۔(2)
فَقُلْنَا یٰۤـاٰدَمُ اِنَّ ہٰذَا عَدُوٌّ لَّکَ وَ لِزَوْجِکَ فَلَا یُخْرِجَنَّکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ فَتَشْقٰی ﴿۱۱۷﴾ اِنَّ لَکَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِیۡہَا وَلَاتَعْرٰی ﴿۱۱۸﴾ۙ وَاَنَّکَ لَا تَظْمَؤُا فِیۡہَا
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ۵/۴۳۴-۴۳۵، جلالین، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ص۲۶۸، ملتقطاً۔
2…فتاوی رضویہ، ۲۲/۴۱۷-۴۱۸۔