اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’قرآن عظیم کے عُرف میں اِطلاقِ معصیت عمد (یعنی جان بوجھ کر کرنے ) ہی سے خاص نہیں، قال اللّٰہ تعالٰی ’’وَعَصٰۤی اٰدَمُ رَبَّہٗ‘‘(1) آدم نے اپنے رب کی معصیت کی۔ حالانکہ خود فرماتا ہے ’’فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا‘‘ آدم بھول گیا ہم نے اس کا قصد نہ پایا۔ لیکن سہو نہ گناہ ہے نہ اس پر مؤاخذہ۔(2)
اسی آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ آیت ِ مبارکہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عِصمت کو بڑے واضح طور پر بیان کرتی ہے کیونکہ خود اللّٰہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھول گئے تھے اور ان کا نافرمانی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
(2)… ہم جیسوں کے لئے بھول چوک معاف ہے مگر انبیائِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پران کی عظمت و شان کی وجہ سے اس بنا پر بھی بعض اوقات پُرسش ہوجاتی ہے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’جتنا قرب زائد اسی قدر احکام کی شدت زیادہ ۔ ع
جن کے رتبے ہیں سوا اُن کو سوا مشکل ہے۔
بادشاہِ جبّار، جلیل القدر ایک جنگلی گنوار کی جو بات سن لے گا (اور اس کے ساتھ) جو برتاؤ گوارا کرے گا (وہ) ہر گز شہریوں سے پسند نہ کرے گا (اور) شہریوں میں بازاریوں سے معاملہ آسان ہوگا اور خاص لوگوں سے سخت اور خاصوں میں درباریوں اور درباریوں میں وزراء ، (الغرض) ہر ایک پربار دوسرے سے زائد ہے، اس لیے وارد ہوا ’’حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ‘‘نیکوں کے جو نیک کام ہیں مقربوں کے حق میں گناہ ہیں۔ وہاں ترکِ اَولیٰ کو بھی گناہ سے تعبیر کیا جاتا ہے حالانکہ ترک اولیٰ ہر گز گناہ نہیں۔(3)
(3)… ہر شخص شیطان سے ہوشیار رہے کہ حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معصوم تھے اور جنت محفوظ جگہ تھی پھر بھی ابلیس نے اپنا کام کردکھایا، تو ہم لوگ کس شمار میں ہیں۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…طہٰ:۱۲۱۔
2…فتاوی رضویہ، ۲۹/۴۰۰۔
3…فتاوی رضویہ، ۲۹/۴۰۰۔