’’وَ لَلْاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوۡلٰی‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور بیشک تمہارے لئے ہر پچھلی گھڑی پہلیسے بہتر ہے۔
وَلَقَدْ عَہِدْنَاۤ اِلٰۤی اٰدَمَ مِنۡ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا ﴿۱۱۵﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے ایک تاکیدی حکم دیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا قصد نہ پایا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے تاکیدی حکم دیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا کوئی مضبوط ارادہ نہ پایاتھا ۔
{وَلَقَدْ عَہِدْنَاۤ اِلٰۤی اٰدَمَ مِنۡ قَبْلُ:اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے تاکیدی حکم دیا تھا۔} اس سے پہلے سورۂ بقرہ، سورۂ اَعراف، سورۂ حجر، سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ کہف میں مختلف حکمتوں کی وجہ سے حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ابلیس کا واقعہ بیان ہو ا اور اب یہاں سے چھٹی بار ان کا واقعہ بیان کیا جا رہاہے اور اسے ذکر کرنے میں یہ حکمت بھی ہو سکتی ہے کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے شیطان انسانوں کا بڑ اپرانا دشمن ہے ا س لئے ہر انسان کو چاہئے کہ وہ شیطان کی فریب کاریوں سے ہوشیار رہے اور اس کے وسوسوں سے بچنے کی تدابیر اختیار کرے۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس زمانے سے پہلے تاکیدی حکم دیا تھا کہ وہ ممنوعہ درخت کے پاس نہ جائیں لیکن یہ حکم انہیں یاد نہ رہا اور آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ممنوعہ درخت کے پاس چلے گئے البتہ اس جانے میں ان کی طرف سے اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔
آیت ’’وَلَقَدْ عَہِدْنَاۤ اِلٰۤی اٰدَمَ‘‘ سے معلوم ہونے والے عقائد و مسائل:
اس آیت سے تین باتیں معلوم ہوئیں:
(1)… حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جان بوجھ کر ممنوعہ درخت سے نہیں کھایا بلکہ اس کی وجہ اللّٰہ تعالیٰ کا حکم یاد نہ رہنا تھا اور جو کام سہواً ہو وہ نہ گناہ ہوتا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی مُؤاخذہ ہوتا ہے۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…والضحی:۴۔