Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
239 - 695
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو کوئی اسلام کی حالت میں کچھ نیک اعمال کرے تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ کمی کا ۔
{وَمَنۡ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ:اور جو کوئی اسلام کی حالت میں کچھ نیک اعمال کرے۔} ارشاد فرمایا کہ جو کوئی اسلام کی حالت میں کچھ نیک اعمال کرے تو اسے اس بات کا خوف نہ ہو گا کہ وعدے کے مطابق وہ جس ثواب کا مستحق تھا وہ اسے نہ ا
نیک اعمال کی قبولیت ایمان کے ساتھ مشروط ہے:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ طاعت اور نیک اعمال سب کی قبولیت ایمان کے ساتھ مشروط ہے کہ ایمان ہو تو سب نیکیاں کار آمد ہیں اور ایمان نہ ہو تویہ سب عمل بے کار ،ہاں ایمان لانے کے بعد کفر کے زمانے کی نیکیاں بھی قبول ہو جاتی ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔ 
 نیک اعمال اور لوگوں کا حال:
	علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰیعَلَیْہِ فرماتے ہیں: اس آیت سے معلوم ہو ا کہ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ نیک اعمال میں مشغول رہے اور گناہوں سے رک جائے کیونکہ قیامت کے دن ہر شخص اپنے اعمال کے درخت کا پھل پائے گا اور جیسے اس کے اعمال ہوں گے ویسے انجام تک وہ پہنچ جائے گا اور نیک اعمال میں سب سے افضل فرائض کو ادا کرنا اور حرام و ممنوع کاموں سے بچنا ہے ۔ (اسی سے متعلق ایک حکایت ملاحظہ ہو،چنانچہ) ایک مرتبہ خلیفہ سلیمان بن عبد الملک نے حضرت ابو حازم رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے عرض کی : مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا ’’تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی پاکی بیان کرتے رہو اور اس بات کو بہت بڑ اجانو کہ تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ تمہیں وہاں دیکھے جہاں اس نے تمہیں منع کیا ہے اور وہاں تجھے موجود نہ پائے جہاں موجود ہونے کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے۔
	اور نیک اعمال کے سلسلے میں لوگوں کی ایک تعدادکا یہ حال ہے کہ وہ نفلی کاموں میں تو بہت جلدی کرتے ہیں ، لمبے لمبے اور کثیر اوراد ووظائف پابندی سے پڑھتے ہیں، مشکل اور بھاری نفلی کام کرنے میں رغبت رکھتے ہیں جبکہ وہ کام جنہیں کرنا ان پر فرض و واجب ہے ان میں سستی سے کام لیتے ہیں اور انہیں صحیح طریقے سے ادا بھی نہیں کرتے ۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۵/۴۳۱۔