Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
240 - 695
	ایک بزرگ فرماتے ہیں : نفسانی خواہش کی پیروی کی ایک علامت یہ ہے کہ بندہ نفلی نیک کام کرنے میں تو بہت جلدی کرے اور واجبات کے حقوق ادا کرنے میں سستی سے کام لے۔
	حضرت ابومحمد مرتعش رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں نے کئی حج ننگے پاؤں اور پید ل سفر کر کے کئے ۔ ایک دن رات کے وقت میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ ہاجرہ کو پانی پلا دو، تو مجھے یہ کام بہت بھاری لگا، اس سے میں نے جان لیا کہ پیدل حج کرنے پر میں نے اپنے نفس کی جو بات مانی اس میں میرے نفس کی لذت کا عمل دخل تھا کیونکہ اگر میرا نفس ختم ہو چکا ہوتا تو (والدہ کی اطاعت کا) وہ کام مجھے بھاری محسوس نہ ہوتا جو شریعت کا حق تھا۔(1)
وَکَذٰلِکَ اَنۡزَلْنٰہُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیۡہِ مِنَ الْوَعِیۡدِ لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوۡنَ اَوْ یُحْدِثُ لَہُمْ ذِکْرًا ﴿۱۱۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن اتارا اور اس میں طرح طرح سے عذاب کے وعدے دئیے کہ کہیں انہیں ڈر ہو یا ان کے دل میں کچھ سوچ پیدا کرے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن نازل فرمایا اور اس میں مختلف انداز سے عذاب کی وعیدیں بیان کیں تاکہ لوگ ڈریں یا قرآن ان کے دل میں کچھ غور وفکر پیدا کرے۔
{وَکَذٰلِکَ:اور یونہی۔} اس آیت میں قرآنِ مجید کی دو صفات بیان کی گئیں (1) قرآن کریم کو عربی زبان میں نازل کیا گیا، تاکہ اہلِ عرب اسے سمجھ سکیں اور وہ اس بات سے واقف ہوجائیں کہ قرآن پاک کی نظم عاجز کر دینے والی ہے اور یہ کسی انسان کا کلام نہیں۔ (2) قرآنِ مجیدمیں مختلف انداز سے فرائض چھوڑنے اور ممنوعات کا اِرتکاب کرنے پر عذاب کی وَعِیدیں بیان کی گئیں تاکہ لوگ ڈریں اور قرآن عظیم ان کے دل میں کچھ نصیحت اور غوروفکر پیدا کرے جس سے انہیں نیکیوں کی رغبت اور بدیوں سے نفرت ہو اور وہ عبرت و نصیحت حاصل کریں۔(2)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۵/۴۳۱، ملخصاً۔
2…تفسیرکبیر، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ۸/۱۰۳، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ۳/۲۶۴-۲۶۵، ملتقطاً۔