نظر کن اندر اسماء وصفاتَش کہ واقف نیست کس از کنہِ ذاتَش
یعنی تیز عقل ا س کی ذات کا ادراک کس طرح کر سکتی ہے کیونکہ وہ تو فہم و ادراک کی حد سے ہی بالا تر ہے، لہٰذا تم اس کے اسماء و صفات میں غورو فکر کرو کہ اس کی ذات کی حقیقت سے کوئی واقف ہی نہیں۔
بعض مفسرین نے اس آیت کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ مخلوق کے علوم اللّٰہ تعالیٰ کی معلومات کا احاطہ نہیں کر سکتے۔(1)
وَعَنَتِ الْوُجُوۡہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوۡمِ ؕ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا ﴿۱۱۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور سب منہ جھک جائیں گے اس زندہ قائم رکھنے والے کے حضور اور بیشک نامراد رہا جس نے ظلم کا بوجھ لیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمام چہرے اُس کے حضور جھک جائیں گے جو خود زندہ ، دوسروں کوقائم رکھنے والا ہے اور بیشک وہ شخص ناکام رہا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔
{وَعَنَتِ الْوُجُوۡہُ:اور تمام چہرے جھک جائیں گے ۔} ارشاد فرمایا کہ حشر کے دن تمام چہرے اس خدا کے حضور جھک جائیں گے جو خود زندہ ، دوسروں کوقائم رکھنے والا ہے اور ہر ایک شانِ عجز و نیاز کے ساتھ حاضر ہو گا ، کسی میں سرکشی نہ رہے گی اور اللّٰہ تعالیٰ کے قہر و حکومت کا کامل ظہور ہو گا اور بیشک وہ شخص ناکام رہا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے اور بے شک شرک شدید ترین ظلم ہے اور جو اس ظلم کے بوجھ تلے دبے ہوئے مَوقِفِ قیامت میں آئے گا تو اس سے بڑھ کر نامراد کون ہے۔(2)
وَمَنۡ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَایَخَافُ ظُلْمًا وَّلَا ہَضْمًا ﴿۱۱۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا نہ نقصان کا۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ۵/۴۳۰، ابو سعود، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ۳/۴۹۲، ملتقطاً۔
2…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۱،۳/۲۶۴، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ص۷۰۳-۷۰۴، ملتقطاً۔