Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
236 - 695
اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لے آئے، جب قریب پہنچے تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو کچھ گفتگو کرتے ہوئے سنا۔ ان میں سے بعض نے کہا: تعجب کی بات ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اپنا خلیل بنایا، دوسرے نے کہا: یہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے اللّٰہ تعالیٰ کے ہم کلام ہونے سے زیادہ تعجب خیز تو نہیں۔ ایک نے کہا حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللّٰہ تعالیٰ کاکلمہ اور روح ہیں۔ کسی نے کہا :حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اللّٰہ تعالیٰ نے چن لیا، حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَان کے پاس تشریف لائے، سلام کیا اور فرمایا ’’ میں نے تمہاری گفتگو اور تمہارا تعجب کرنا سنا کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خلیلُ اللّٰہ ہیں، بیشک وہ ایسے ہی ہیں، حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نَجِیُّ اللّٰہ ہیں ، بے شک وہ اسی طرح ہیں، حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام روح ُاللّٰہ اور کلمۃُ اللّٰہ ہیں، واقعی وہ اسی طرح ہیں۔ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللّٰہ تعالیٰ نے چن لیا وہ بھی یقینا ایسے ہی ہیں۔ سن لو! میں اللّٰہ تعالیٰ کا حبیب ہوں اور کوئی فخر نہیں۔ میں قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھانے والا ہوں اور کوئی فخر نہیں۔ قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کرنے والا بھی میں ہی ہوں اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی اور کوئی فخر نہیں۔ سب سے پہلے جنت کا کُنڈا کھٹکھٹانے والا بھی میں ہی ہوں، اللّٰہ تعالیٰ میرے لئے اسے کھولے گا اور مجھے داخل کرے گا، میرے ساتھ فقیر   مومن ہوں گے اور کوئی فخر نہیں۔ میں اَوّلین و آخرین میں سب سے زیادہ مکرم ہوں لیکن کوئی فخر نہیں۔(1)
(3)… حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ہرنبی کی ایک دعا قبول ہوتی ہے، پس ہرنبی نے وہ دعا جلد مانگ لی اور میں نے اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے بچا کر رکھا ہوا ہے اور یہ اِنْ شَاءَ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ میری امت میں سے ہرشخص کوحاصل ہوگی جواس حال میں مرا کہ اس نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو۔(2)
(4)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں کے لئے ہو گی جن سے کبیرہ گناہ سرزد ہوئے ہوں گے۔(3)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…ترمذی، کتاب المناقب، باب ما جاء فی فضل النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ۵/۳۵۴، الحدیث: ۳۶۳۶۔
2…مسلم، کتاب الایمان، باب اختباء النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم دعوۃ الشفاعۃ لامّتہ، ص۱۲۹، الحدیث: ۳۳۸(۱۹۹)۔
3…سنن ابوداؤد، کتاب السنّۃ، باب فی الشفاعۃ، ۴/۳۱۱، الحدیث: ۴۷۳۹۔