پسند فرمائی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی سوائے اس کے جسے رحمن نے اجازت دیدی ہو اور اس کی بات پسند فرمائی ہو۔
{یَوْمَئِذٍ لَّا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَۃُ:اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی۔} ارشاد فرمایا کہ جس دن یہ ہَولناک اُمور واقع ہوں گے اس دن شفاعت کرنے والوں میں سے کسی کی شفاعت کام نہ دے گی البتہ اس کی شفاعت کام دے گی جسے اللّٰہ تعالیٰ نے شفاعت کرنے کی اجازت دیدی ہو اور اس کی بات پسند فرمائی ہو۔(1)
اہلِ ایمان کی شفاعت کی دلیل:
علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے قیامت کے دن مومن کے علاوہ کسی اور کی شفاعت نہ ہو گی اور کہا گیا ہے کہ شفاعت کرنے والے کا درجہ بہت عظیم ہے اور یہ اسے ہی حاصل ہو گا جسے اللّٰہ تعالیٰ اجازت عطا فرمائے گا اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پسندیدہ ہو گا۔(2)
شفاعت سے متعلق6 اَحادیث:
یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے مقبول بندوں کو گناہگار مسلمانوں کی شفاعت کرنے کی اجازت عطا فرمائے گا اور یہ مقرب بندے اللّٰہ تعالیٰ کی دی ہوئی اجازت سے گناہگاروں کی شفاعت کریں گے، اس مناسبت سے یہاں شفاعت سے متعلق 6 اَحادیث ملاحظہ ہوں
(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’میں قیامت کے دن حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اولاد کا سردار ہوں گا، سب سے پہلے میری قبر کھلے گی، سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی۔(3)
(2)…حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، چند صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نبی اکرم صَلَّی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۵/۴۲۹۔
2…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۳/۲۶۴۔
3…مسلم، کتاب الفضائل، باب تفضیل نبیّنا صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی جمیع الخلائق، ص۱۲۴۹، الحدیث: ۳(۲۲۷۸)۔