Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
234 - 695
یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِیَ لَاعِوَجَ لَہٗ ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا ہَمْسًا ﴿۱۰۸﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اس دن پکارنے والے کے پیچھے دوڑیں گے اس میں کجی نہ ہوگی اور سب آوازیں رحمن کے حضور پست ہوکر رہ جائیں گی تو تُو نہ سنے گا مگر بہت آہستہ آواز۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس دن پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے(لوگوں کی طرف سے)اس داعی کے لئے اِدھراُدھرہونا نہ ہوگا اور سب آوازیں رحمن کے حضو ر پست ہوکر رہ جائیں گی تو تُو ہلکی سی آواز کے سوا کچھ نہ سنے گا۔ 
{یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِیَ:اس دن پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے ۔} ارشاد فرمایا کہ جس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اڑا دئیے جائیں گے اس دن لوگ قبروں سے نکلنے کے بعد پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے جو انہیں قیامت کے دن مَوقِف کی طرف بلا ئے گا اور ندا کرے گا: رحمن عَزَّوَجَلَّکے حضور پیش ہونے کے لئے چلو ، اور یہ پکارنے والے حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَامہوں گے ۔ لوگ اس بات پر قادر نہ ہو ں گے کہ وہ دائیں بائیں مڑ جائیں اور اس کے پیچھے نہ چلیں بلکہ وہ سب تیزی سے پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اور اس دن سب آوازیں رحمن کے حضو ر ہیبت و جلال کی وجہ سے پَست ہوکر رہ جائیں گی اور حال یہ ہو گا کہ تو ہلکی سی آواز کے سوا کچھ نہ سنے گا۔ اس کی کیفیت کے بارے حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا ’’وہ ہلکی سی آواز ایسی ہو گی کہ اس میں صرف لبوں کی جنبش ہوگی۔(1)
یَوْمَئِذٍ لَّا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہٗ قَوْلًا ﴿۱۰۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی مگر اس کی جسے رحمن نے اذن دے دیا ہے اور اس کی بات
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۵/۴۲۸، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۳/۲۶۴، جلالین، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ص۲۶۷، ملتقطاً۔