Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
233 - 695
ہیں اور یہ ان کو دھوکے کا وعدہ دیتی ہے حتّٰی کہ وہ بہت زیادہ امید رکھتے ہیں اور محلات بناتے ہیں اور پھر ان کے محلات قبروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ ان کی جماعت ہلاک ہوجاتی ہے ان کی کوشش بکھرا ہوا غبار بن جاتی ہے اور ان کی دعا تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔(1)
وَ یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنۡسِفُہَا رَبِّیۡ نَسْفًا ﴿۱۰۵﴾ۙ فَیَذَرُہَا قَاعًا صَفْصَفًا ﴿۱۰۶﴾ۙ لَّاتَرٰی فِیۡہَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًا ﴿۱۰۷﴾ؕ
ترجمۂکنزالایمان: اور تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔ تو زمین کو پٹ پر ہموار کر چھوڑے گا۔ کہ تو اس میں نیچا اونچا کچھ نہ دیکھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور آپ سے پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔تم فرماؤ! انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔ تو زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا چھوڑے گا۔ تو اس میں کوئی ناہمواری دیکھے گا اورنہ اونچائی ۔
{وَ یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الْجِبَالِ:اور آپ سے پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ قبیلہ ثقیف کے ایک آدمی نے رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دریافت کیا کہ قیامت کے دن پہاڑوں کا کیا حال ہوگا؟ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ، اور اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ سے پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ ان سے فرما دیں کہ انہیں میرا رب عَزَّوَجَلَّ ریت کے ذروں کی طرح ریزہ ریزہ کر دے گا پھر انہیں ہواؤں کے ذریعے اڑا دے گا اور پہاڑوں کے مقامات کی زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا چھوڑے گا اور زمین اس طرح ہموار کر دی جائے گی کہ تو اس میں کوئی پستی اور اونچائی نہ دیکھے گا۔(2)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…احیاء علوم الدین، کتاب ذمّ الدنیا، ۳/۲۴۸۔
2…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۵-۱۰۷، ۳/۲۶۳-۲۶۴، جلالین، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۵-۱۰۷، ص۲۶۷، ملتقطاً۔