Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
230 - 695
ترجمۂکنزالایمان: جو اس سے منہ پھیرے تو بیشک وہ قیامت کے دن ایک بوجھ اٹھائے گا۔وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہ قیامت کے دن ان کے حق میں کیا ہی برا بوجھ ہوگا۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو اس سے منہ پھیرے گاتو بیشک وہ قیامت کے دن ایک بڑا بوجھ اٹھائے گا ۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہ قیامت کے دن ان کیلئے بہت برا بوجھ ہوگا۔
{مَنْ اَعْرَضَ عَنْہُ:جو اس سے منہ پھیرے گا۔} ارشاد فرمایا کہ جو اس قرآن سے منہ پھیرے اور اس پر ایمان نہ لائے اور اس کی ہدایتوں سے فائدہ نہ اٹھائے تووہ قیامت کے دن گناہوں کا ایک بڑا بوجھ اٹھائے گا۔(1)
{خٰلِدِیۡنَ فِیۡہِ:وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔} یعنی وہ ہمیشہ اس گناہ کے عذاب میں رہیں گے اور وہ قیامت کے دن ان کیلئے بہت برا بوجھ ہوگا۔(2)
	یہاں یہ بات یاد رہے ہمیشہ عذاب میں وہ شخص رہے گا جس کا خاتمہ کفر کی حالت میں ہوا ہو گا اور جس کا خاتمہ ایمان پر ہوا وہ اگرچہ کتنا ہی گنہگار ہواسے ہمیشہ عذاب نہ ہوگا۔
یَّوْمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیۡنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًا ﴿۱۰۲﴾ۚۖ یَّتَخَافَتُوۡنَ بَیۡنَہُمْ اِنۡ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا ﴿۱۰۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: جس دن صُور پھونکا جائے گا اور ہم اس دن مجرموں کو اٹھائیں گے نیلی آنکھیں ۔ آپس میں چپکے چپکے کہتے ہوں گے کہ تم دنیا میں نہ رہے مگر دس رات۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس دن صُور میں پھونکا جائے گا اور ہم اس دن مجرموں کو اس حال میں اٹھائیں گے کہ ان کی 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…بغوی، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۳/۱۹۴۔
2…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۳/۲۶۳۔