Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
231 - 695
آنکھیں نیلی ہوں گی۔ وہ آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کریں گے کہ تم دنیا میں صرف دس رات رہے ہو۔ 
{یَوْمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ:جس دن صُور میں پھونکا جائے گا ۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنی قوم کو وہ دن یاد دلائیں جس دن لوگوں کومحشر میں حاضر کرنے کے لئے دوسری بار صُور میں پھونکا جائے گا اور ہم اس دن کافروں کو اس حال میں اٹھائیں گے کہ ان کی آنکھیں نیلی اور منہ کالے ہوں گی۔(1)
{یَتَخَافَتُوۡنَ بَیۡنَہُمْ:وہ آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کریں گے۔} آخرت کی ہولناکیاں اور وہاں کی خوفناک منازل دیکھ کر کفار کو دُنْیَوی زندگی کی مدت بہت قلیل معلوم ہو گی اور وہ آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کرتے ہوئے کہیںگے کہ ہم تو دنیا میں زیادہ عرصہ نہیں رہے بلکہ دس راتیں رہے ہیں۔(2)
نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ اِذْ یَقُوۡلُ اَمْثَلُہُمْ طَرِیۡقَۃً اِنۡ لَّبِثْتُمْ اِلَّایَوْمًا ﴿۱۰۴﴾٪ ترجمۂکنزالایمان: ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہیں گے جبکہ ان میں سب سے بہتر رائے والا کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن رہے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہیں گے جب ان میں سب سے بہتر رائے والا کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن رہے تھے۔
{نَحْنُ اَعْلَمُ:ہم خوب جانتے ہیں۔} ارشاد فرمایا کہ کفار دنیا میں ٹھہرنے کی مدت کے بارے آپس میں جو آہستہ آہستہ باتیں کریں گے اسے ہم خوب جانتے ہیں۔ کچھ لوگ تو دس راتیں رہنے کا کہیں گے جبکہ ان میں سب سے بہتر رائے والا قیامت کی ہولناکیاں دیکھ کر کہے گا کہ تم تو صرف ایک ہی دن دنیا میں رہے تھے۔ بعض مفسرین کے نزدیک کفار کو دنیا میں ٹھہرنے کی مدت بہت کم معلوم ہو گی جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، جبکہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ وہ اس دن کی سختیاں دیکھ کر اپنے دنیا میں رہنے کی مقدار ہی بھول جائیں گے۔(3)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۵/۴۲۵، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۳/۲۶۳، ملتقطاً۔
2…تفسیرکبیر، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۸/۹۸۔
3…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۳/۲۶۳۔