Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
23 - 695
تھے، وہ تو چشمۂ حیات تک پہنچ گئے اور انہوں نے اس میں سے پی بھی لیا مگر حضرت ذوالقرنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مقدر میں نہ تھا اس لئے انہوں نے وہ چشمہ نہ پایا ۔ اس سفر میں مغرب کی جانب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی ہے وہ سب منزلیں طے کر ڈالیں اور مغرب کی سمت میں وہاں تک پہنچے جہاں آبادی کا نام و نشان باقی نہ رہا ، وہاں انہیں سورج غروب ہوتے وقت ایسا نظر آیا گویا کہ وہ سیاہ چشمہ میں ڈوبتا ہے جیسا کہ دریائی سفر کرنے والے کو پانی میں ڈوبتا معلوم ہوتا ہے۔(1)
{وَوَجَدَ عِنۡدَہَا قَوْمًا:اور اس چشمے کے پاس ہی ایک  قوم کو پایا۔} حضرت ذوالقرنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس چشمے کے پاس ہی ایک ایسی قوم کو پایا جو شکار کئے ہوئے جانوروں کے چمڑے پہنے تھے، اس کے سوا اُن کے بدن پر اور کوئی لباس نہ تھے اور دریائی مردہ جانور اُن کی غذا تھے۔ یہ لوگ کافر تھے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اِلہام کے طور پرفرمایا: اے ذوالقرنین! یا تو تُو انہیں سزا دے اور اُن میں سے جو اسلام میں داخل نہ ہو اس کو قتل کردے یا اگر وہ ایمان لائیںتو ان کے بارے میں بھلائی اختیار کر اور انہیں اَحکامِ شرع کی تعلیم دے ۔ بعض مفسرین کے نزدیک اللّٰہ تعالیٰ نے یہ کلام اپنے کسی نبی عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا اور انہوں نے حضرت ذوالقر نین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے یہ بات کہی۔(2)
قَالَ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُہٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰی رَبِّہٖ فَیُعَذِّبُہٗ عَذَابًا نُّکْرًا ﴿۸۷﴾ وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہٗ جَزَآءَۨ  الْحُسْنٰی ۚ وَ سَنَقُوۡلُ لَہٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًا ﴿ؕ۸۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: عرض کی کہ وہ جس نے ظلم کیا اسے تو ہم عنقریب سزادیں گے پھر اپنے رب کی طرف پھیرا جائے گا وہ اسے بری مار دے گا۔  اور جو ایمان لایا اور نیک کام کیا تو اس کا بدلہ بھلائی ہے اور عنقریب ہم اسے آسان کام کہیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کہا : بہرحال جس نے ظلم کیا تو عنقریب ہم اسے سزا دیں گے پھروہ اپنے رب کی طرف لوٹایا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1…مدارک، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۶، ص۶۶۲، جمل، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۶، ۴/۴۵۲-۴۵۳، ملتقطاً۔
2…مدارک، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۶، ص۶۶۲۔