جائے گا تو وہ اسے بہت برا عذاب دے گا۔اور بہر حال جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا تو اس کا بدلہ بھلائی ہے اور عنقریب ہم اس کو آسان کام کہیں گے۔
{قَالَ:کہا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ذوالقر نین نے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملنے کے بعد ان نبی عَلَیْہِ السَّلَام سے عرض کی یا اپنے پاس موجود خاص ساتھیوں سے کہا ’’بہرحال جس نے کفرو شرک اختیار کیا اور میری دعوت کو ٹھکرا کر ایمان نہ لایا تو عنقریب ہم اسے قتل کردیں گے، یہ تو اس کی دُنْیَوی سزا ہے ، پھر وہ قیا مت کے دن اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے جہنم کابہت برا عذاب دے گا اور جو ایمان لایا اور اس نے ایمان کے تقاضوں کے مطابق نیک عمل کیا تو اس کیلئے جزا کے طور پر بھلائی یعنی جنت ہے اور عنقریب ہم اس ایمان والے کو آسان کام کہیں گے اور اس کو ایسی چیزوں کا حکم دیں گے جو اس پر سہل ہوں دشوار نہ ہوں۔(1)
ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا ﴿۸۹﴾ حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَہَا تَطْلُعُ عَلٰی قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلۡ لَّہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہَا سِتْرًا ﴿ۙ۹۰﴾ کَذٰلِکَ ؕ وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیۡہِ خُبْرًا ﴿۹۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر ایک سامان کے پیچھے چلا۔یہاں تک کہ جب سورج نکلنے کی جگہ پہنچا اسے ایسی قوم پر نکلتا پایا جن کے لیے ہم نے سورج سے کوئی آڑ نہیں رکھی۔ بات یہی ہے اور جو کچھ اس کے پاس تھا سب کو ہمارا علم محیط ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:پھر وہ ایک راستے کے پیچھے چلا۔ یہاں تک کہ جب سورج طلوع ہونے کی جگہ پہنچا تو اسے ایک ایسی قوم پرطلوع ہوتا ہوا پایا جن کے لیے ہم نے سورج سے کوئی آڑ نہیں رکھی تھی۔ بات اسی طرح ہے اور جو کچھ اس کے پاس تھا سب کو ہمارا علم محیط ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابو سعود، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۷-۸۸، ۳/۴۰۳، مدارک، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۷-۸۸، ص۶۶۲، جلالین، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۷-۸۸، ص۲۵۱، ملتقطاً۔