فَاَتْبَعَ سَبَبًا ﴿۸۵﴾ حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَہَا تَغْرُبُ فِیۡ عَیۡنٍ حَمِئَۃٍ وَّوَجَدَ عِنۡدَہَا قَوْمًا ۬ؕ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنۡ تَتَّخِذَ فِیۡہِمْ حُسْنًا ﴿۸۶﴾
ترجمۂکنزالایمان:تو وہ ایک سامان کے پیچھے چلا ۔ یہاں تک کہ جب سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا اسے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا پایا اور وہاں ایک قوم ملی ہم نے فرمایا اے ذوالقرنین یا تو تُو انہیں سزا دے یا ان کے ساتھ بھلائی اختیار کرے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:تو وہ ایک راستے کے پیچھے چلا ۔ یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچا تواسے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا ہوا پایا اور اس چشمے کے پاس ہی ایک قوم کو پایا توہم نے فرمایا: اے ذوالقرنین! یا تو تُو انہیں سزا دے یا ان کے بارے میں بھلائی اختیار کرو۔
{سَبَبًا:سبب۔}سبب سے مراد وہ چیز ہے جو مقصود تک پہنچنے کا ذریعہ ہوخواہ وہ علم ہو ، قدرت ہو یا آلات ہوں، تو حضرت ذوالقرنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جس مقصد کا ارادہ کیا اسی کا سبب اختیار کیا، چنانچہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مغرب کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو اس کے لئے وہ راستہ اختیار کیا جو انہیں وہاں تک پہنچا دے ،جیسا کہ اس آیت میں ہے ، اور جب انہوں نے مشرق کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو وہ اس راستے پر چلے جو انہیں مشرق تک پہنچا دے۔(1)
{وَجَدَہَا تَغْرُبُ فِیۡ عَیۡنٍ حَمِئَۃٍ:اسے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا ہواپایا ۔} حضرت ذوالقرنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سفر کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ انہوں نے کتابوں میں دیکھا تھا کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ایک شخص چشمۂ حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی۔ یہ دیکھ کر وہ چشمۂ حیات کی طلب میں مغرب و مشرق کی طرف روانہ ہوئے ، اس سفر میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبھی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۵، ص۶۶۲، بیضاوی، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۵، ۳/۵۲۰، ملتقطاً۔