Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
222 - 695
{قَالُوۡا:انہوں نے کہا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بات سن کر لوگوں نے کہا: ہم نے اپنے اختیار سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی لیکن فرعون کی قوم کے کچھ زیورات جو ہم نے ان سے عارِیَّت کے طور پر لئے تھے انہیں ہم نے سامری کے حکم سے آگ میں ڈال دیا ،پھر اسی طرح سامری نے ان زیوروں کوڈال دیا جو اس کے پاس تھے اور اس خاک کو بھی ڈال دیا جو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے گھوڑے کے قدم کے نیچے سے اس نے حاصل کی تھی۔(1)
فَاَخْرَجَ لَہُمْ عِجْلًاجَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌفَقَالُوۡا ہٰذَاۤ اِلٰـہُکُمْ وَاِلٰہُ مُوۡسٰی۬ فَنَسِیَ ﴿ؕ۸۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا بے جان کا دھڑ گائے کی طرح بولتا توبولے یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ کا معبود موسیٰ تو بھول گئے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اس نے ان لوگوں کے لیے ایک بے جان بچھڑا نکال دیا جس کی گائے جیسی آواز تھی تو لوگ کہنے لگے: یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا معبود ہے اور موسیٰ بھول گئے ہیں۔
{فَاَخْرَجَ لَہُمْ عِجْلًاجَسَدًا:تو اس نے ان لوگوں کے لیے ایک بے جان بچھڑا نکال دیا۔}یہ بچھڑا سامری نے بنایا اور اس میں کچھ سوراخ اس طرح رکھے کہ جب ان میں ہوا داخل ہو تو اس سے بچھڑے کی آواز کی طرح آواز پیدا ہو ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ اَسْپِ جبریل کی خاک زیرِ قدم ڈالنے سے زندہ ہو کر بچھڑے کی طر ح بولتا تھا۔(2)
{فَقَالُوۡا:تولوگ کہنے لگے۔} یعنی بچھڑے سے آواز نکلتی دیکھ کرسامری اور اس کے پیروکار کہنے لگے: یہ تمہارا معبود ہے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا معبود ہے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممعبود کو بھول گئے اور اسے یہاں چھوڑ کر اس کی جستجو میں کوہِ طور پر چلے گئے ہیں۔ (مَعَاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ) بعض مفسرین نے کہا کہ اس آیت کے آخری لفظ ’’نَسِیَ‘‘
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۸۷، ۳/۲۶۰-۲۶۱۔
2…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳/۲۶۱۔