افسوس! فی زمانہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے ماتحت کام کرنے والا اگر ان کے کسی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ بسا اوقات اس پر موسلا دھار بارش کی طرح برس پڑتے ہیں لیکن اگر یہی لوگ ان کے سامنے اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نافرمانی کرتے ہیں تو ان کے ماتھے پر شکن تک نہیں آتی۔ اللّٰہ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا فرمائے، اٰمین۔
اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضی کا ایک سبب:
یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ کچھ بندوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ اگر وہ بندے کسی پر غصہ کریں تو اللّٰہ تعالیٰ بھی اس پر غضب فرماتا ہے اور اگر وہ بندے کسی سے راضی ہوں تو اللّٰہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہوتا ہے گویا کہ انہیںناراض کرنے سے اللّٰہ تعالیٰ بھی ناراض ہوتا ہے اور انہیں راضی کرنے سے اللّٰہ تعالیٰ بھی راضی ہوتا ہے۔ حدیث ِقُدسی میں ہے، اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: جس نے میرے کسی ولی کی توہین کی اس نے میر ے ساتھ جنگ کا اعلان کر دیا۔(1) لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کا ادب کرے اور ہر ایسے کام سے بچے جو ان کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہو۔
قَالُوۡا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَکَ بِمَلْکِنَا وَ لٰکِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنۡ زِیۡنَۃِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰہَا فَکَذٰلِکَ اَلْقَی السَّامِرِیُّ ﴿ۙ۸۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: بولے ہم نے آپ کا وعدہ اپنے اختیار سے خلاف نہ کیا لیکن ہم سے کچھ بوجھ اٹھوائے گئے اس قوم کے گہنے کے تو ہم نے انہیں ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈالا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: انہوں نے کہا: ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی لیکن قوم کے کچھ زیورات کے بوجھ ہم سے اٹھوائے گئے تھے تو ہم نے ان زیورات کو ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈال دیا۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱/۱۸۴، الحدیث: ۶۰۹۔