Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
223 - 695
کا فاعِل سامری ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ سامری نے بچھڑے کو معبود بنایا اور وہ اپنے ربّ کو بھول گیا یا یہ معنی ہے کہ سامری اَجسام کے حادث ہونے سے اِستدلال کرنا بھول گیا۔(1)
اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیۡہِمْ قَوْلًا ۬ۙ وَّ لَا یَمْلِکُ لَہُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا ﴿٪۸۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو کیا نہیں دیکھتے کہ وہ انہیں کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور ان کے کسی برے بھلے کا اختیار نہیں رکھتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا انہیں کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور ان کیلئے نہ کسی نقصان کا مالک ہے اور نہ نفع کا۔ 
{اَفَلَا یَرَوْنَ:تو کیا وہ نہیں دیکھتے۔} ارشاد فرمایا کہ بچھڑے کو پوجنے والے کیا اس بات پر غور نہیں کرتے کہ وہ بچھڑا انہیں کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور نہ ہی وہ ان سے کسی نقصان کو دور کر سکتا ہے اور نہ انہیں کوئی نفع پہنچا سکتا ہے اور جب وہ بات کا جواب دینے سے عاجز ہے اور نفع نقصان سے بھی بے بس ہے تو وہ معبود کس طرح ہوسکتا ہے۔(2)
	اس آیت سے معلوم ہو اکہ روشن آیات اور معجزات دیکھنے کے بعد بصیرت کا اندھا پن اور عقل والوں کی عقل و فَہم کا سَلب ہو جانا بہت بڑی بد بختی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اس سے محفوظ فرمائے۔ اٰمین۔
وَلَقَدْ قَالَ لَہُمْ ہٰرُوۡنُ مِنۡ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِہٖ ۚ وَ اِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ وَ اَطِیۡعُوۡۤا اَمْرِیۡ ﴿۹۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ان سے ہارون نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اے میری قوم یونہی ہے کہ تم اس کے سبب فتنے میں پڑے اور بیشک تمہارا رب رحمن ہے تو میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۸۸، ص۷۰۰، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳/۲۶۱، ملتقطاً۔
2…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۸۹، ۳/۲۶۱، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۸۹، ص۷۰۰، ملتقطاً۔