Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
220 - 695
نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کا غضب اتر آئے؟ پس تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی اور ایسا ناقص کام کیا ہے کہ بچھڑے کو پوجنے لگے ، تمہارا وعدہ تو مجھ سے یہ تھا کہ میرے حکم کی اطاعت کرو گے اور میرے دین پر قائم رہو گے۔(1)
 اللّٰہ تعالیٰ کے لئے راضی یا ناراض ہونا چاہئے:
	علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی دیکھ کر اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لئے نافرمانی کرنے والے پر غصہ ہونا اور اس کے حال پر افسوس کا اظہار کرنا کامل انسان کی فطرت کے لَوازمات میں سے ہے، لہٰذا ہر عقلمند انسان کو چاہئے کہ وہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْکے طریقے کی پیروی کی اور جب کوئی برائی ہوتی دیکھے تو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اس پر ناراضی اور غصہ کا اظہار کرے۔(2)
	اللّٰہ تعالیٰ کے لئے راضی یا ناراض ہونے کے بارے میںحضرت عمرو بن حَمِق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’بندہ ایمان کی حقیقت کو نہیں پا سکتایہاں تک کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے لئے غضب کرے اور اللّٰہ تعالیٰ کے لئے راضی ہو اور جب اس نے ایسا کر لیا تو وہ ایمان کی حقیقت کا مستحق ہوگیا۔(3) 
	اور اس سلسلے میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرت کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا  فرماتی ہیں: رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنی ذات کا کسی سے انتقام نہیں لیا البتہ اگر کوئی اللّٰہ تعالیٰ کی حرمت کے خلاف کرتا تو اس سے اللّٰہ تعالیٰ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔(4)
	حضرت ابو مسعود انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:ایک آدمی نے عرض کی:یا رسولَ اللّٰہ !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہو سکتا ہے کہ میں نماز میں شامل نہ ہو سکوں کیونکہ فلاں ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔ (راوی فرماتے ہیں کہ)  میں نے نصیحت کرنے میں سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس دن سے زیادہ کبھی ناراض نہیں دیکھا تھا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ‘‘اے لوگو! تم مُتَنَفِّر کرتے ہو! تم میں سے جو لوگوں کو نماز پڑھائے وہ تخفیف کرے کیونکہ ان میں بیمار، کمزور اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں۔(5)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۸۶، ص۶۹۹، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۸۶، ۳/۲۶۰، ملتقطاً۔
2…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۸۹، ۵/۴۱۶۔
3…معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱/۱۹۴، الحدیث: ۶۵۱۔
4…بخاری، کتاب المناقب، باب صفۃ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ۲/۴۸۹، الحدیث: ۳۵۶۰۔
5…بخاری، کتاب العلم، باب الغضب فی الموعظۃ ۔۔۔ الخ، ۱/۵۰، الحدیث: ۹۰۔