سبب کی طرف نسبت کرنا جائز ہے:
اس آیت میںاِضلال یعنی گمراہ کرنے کی نسبت سامری کی طرف فرمائی گئی کیونکہ وہ اس کا سبب اور باعث بنا تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ کسی چیز کو اس کے سبب کی طرف منسوب کرنا جائز ہے ،اسی طرح یوں کہہ سکتے ہیں کہ ماں باپ نے پرورش کی ، دینی پیشواؤں نے ہدایت کی ، اولیاءِ کرام رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ نے حاجت روائی فرمائی اور بزرگوں نے بلا دفع کی ۔
فَرَجَعَ مُوۡسٰۤی اِلٰی قَوْمِہٖ غَضْبَانَ اَسِفًا ۬ۚ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْکُمْ رَبُّکُمْ وَعْدًا حَسَنًا ۬ؕ اَفَطَالَ عَلَیۡکُمُ الْعَہۡدُ اَمْ اَرَدۡتُّمْ اَنۡ یَّحِلَّ عَلَیۡکُمْ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ فَاَخْلَفْتُمۡ مَّوْعِدِیۡ ﴿۸۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا غصہ میں بھرا افسوس کرتا کہا اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہ کیا تھا کیا تم پر مدت لمبی گزری یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اُترے تو تم نے میرا وعدہ خلاف کیا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف غضبناک ہوکر افسوس کرتے ہوئے لوٹے (اور) فرمایا: اے میری قوم ! کیا تمہارے رب نے تم سے اچھا وعدہ نہ کیا تھا؟ کیا مدت تم پر لمبی ہوگئی تھی یا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اتر آئے؟ پس تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ہے۔
{فَرَجَعَ مُوۡسٰۤی اِلٰی قَوْمِہٖ:تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف لوٹے۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے چالیس دن پورے کئے اور وہیں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے بتا دیا گیا کہ تمہاری قوم گمراہی میں مبتلا ہوگئی ہے ۔ اس پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام توریت لے کر اپنی قوم کی طرف غضبناک ہوکر لوٹے اوران کے حال پر افسوس کرتے ہوئے فرمانے لگے: اے میری قوم ! کیا تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے تم سے اچھا وعدہ نہ کیا تھا کہ وہ تمہیں توریت عطا فرمائے گا جس میں ہدایت ہے، نور ہے ، ہزار سورتیں ہیں اور ہر سورت میں ہزار آیتیں ہیں ؟ کیا میرے تم سے جدا ہونے کی مدت تم پر لمبی ہوگئی تھی یا تم