(2)… آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سر پر دو چھوٹے ابھار سے تھے ۔
(3)…انہیں ظاہری و باطنی علوم سے نوازا گیا تھا ۔
(4)… یہ ظلمت اور نور میں داخل ہوئے تھے۔
یہ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خالہ زاد بھائی ہیں، اُنہوں نے اسکندریہ شہر بنایا اور اس کا نام اپنے نام پر رکھا۔ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کے وزیر اور صاحبِ لِواء تھے۔ دنیا میں چار بڑے بادشاہ ہوئے ہیں ، ان میں سے دو مومن تھے، حضرت ذوالقرنینرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور حضرت سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور دو کافر تھے نمرود اور بُختِ نصر، اور پانچویں بڑے بادشاہ حضرت امام مہدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہوں گے، اُن کی حکومت تمام روئے زمین پر ہوگی۔ حضرت ذوالقرنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نبوت میں اختلاف ہے ، حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ وہ نہ نبی تھے نہ فرشتے بلکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرنے والے بندے تھے، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں محبوب بنایا۔(1)
اِنَّا مَکَّنَّا لَہٗ فِی الْاَرْضِ وَاٰتَیۡنٰہُ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ سَبَبًا ﴿ۙ۸۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک ہم نے اسے زمین میں قابو دیا اور ہر چیز کا ایک سامان عطا فرمایا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہم نے اسے زمین میں اقتدار دیا اور اسے ہر چیز کا ایک سامان عطا فرمایا۔
{اِنَّا مَکَّنَّا لَہٗ فِی الْاَرْضِ:بیشک ہم نے اسے زمین میں اقتدار دیا۔} ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے حضرت ذوالقرنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو زمین میں اقتدار دیا اور اسے ہر چیز کا ایک سامان یا اس کے حصول کا ایک طریقہ عطا فرمایا اور جس چیز کی مخلوق کو حاجت ہوتی ہے اور جو کچھ بادشاہوں کو ملک اور شہر فتح کرنے اور دشمنوں کے ساتھ جنگ کرنے میں درکار ہوتا ہے وہ سب عنایت کیا۔(2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جمل، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۳، ۴/۴۵۱، مدارک، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۳، ص۶۶۱، قرطبی، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۳،۵/۳۴۰، الجزء العاشر، خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۳، ۳/۲۲۲-۲۲۳۔
2…خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۴، ۳/۲۲۳۔