رضا چاہی۔ چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰىہَا‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس میں تمہاری خوشی ہے۔
اور ارشاد فرماتا ہے
’’وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور اس میں اضافہ کرنے کیلئے کوشاں ہیں جبکہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی رضا چاہ رہاہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیا خوب فرماتے ہیں:
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالَم خدا چاہتا ہے رضائے محمد
قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَکَ مِنۡۢ بَعْدِکَ وَ اَضَلَّہُمُ السَّامِرِیُّ ﴿۸۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: فرمایا تو ہم نے تیرے آنے کے بعد تیری قوم کو بلا میں ڈالا اور انہیں سامری نے گمراہ کردیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: فرمایا، تو ہم نے تیرے آنے کے بعد تیری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے انہیںگمراہ کردیا۔
{قَالَ:فرمایا۔} اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ!عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، ہم نے تیرے پہاڑ کی طرف آنے کے بعد تیری قوم جنہیں آپ نے حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ چھوڑا ہے کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے انہیں بچھڑا پوجنے کی دعوت دے کر گمراہ کردیا ہے۔(3)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…بقرہ:۱۴۴۔
2…والضحی:۵۔
3…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۸۵، ۵/۴۱۳، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۸۵، ۳/۲۶۰، ملتقطاً۔