شرمسار ہونے اور آئندہ وہ گناہ نہ کرنے کے پختہ ارادے کا نام ہے اور جو لوگ فقط زبان سے توبہ کے الفاظ دہرا لینے یا ہاتھ سے توبہ توبہ کے اشارے کر لینے کو کافی سمجھتے ہیں تو وہ یاد رکھیں کہ یہ حقیقی توبہ نہیں ہے۔
وَ مَاۤ اَعْجَلَکَ عَنۡ قَوْمِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۸۳﴾ قَالَ ہُمْ اُولَآءِ عَلٰۤی اَثَرِیۡ وَعَجِلْتُ اِلَیۡکَ رَبِّ لِتَرْضٰی ﴿۸۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور تو نے اپنی قوم سے کیوں جلدی کی اے موسیٰ۔ عرض کی کہ وہ یہ ہیں میرے پیچھے اور اے میرے رب تیری طرف میں جلدی کرکے حاضر ہوا کہ تو راضی ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے موسیٰ! تجھے اپنی قوم سے کس چیز نے جلدی میں مبتلا کردیا؟ عرض کی :وہ یہ میرے پیچھے ہیں اور اے میرے رب !میں نے تیری طرف اس لئے جلدی کی تاکہ تو راضی ہوجائے۔
{وَ مَاۤ اَعْجَلَکَ:اور تجھے کس چیز نے جلدی میں مبتلا کردیا؟} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب اپنی قوم میں سے ستر آدمیوں کو منتخب کر کے توریت شریف لینے کوہِ طور پر تشریف لے گئے، پھر اللّٰہ تعالیٰ سے کلام کے شوق میں ان آدمیوں سے آگے بڑھ گئے اور انہیں پیچھے چھوڑتے ہوئے فرمایا کہ میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ ، تواس پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’ اے موسیٰ! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، تجھے اپنی قوم سے کس چیز نے جلدی میں مبتلا کردیا؟ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے عرض کی :وہ یہ میرے پیچھے ہیں اور اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، میں نے تیری طرف اس لئے جلدی کی تاکہ تیرے حکم کو پورا کرنے میں میری جلدی دیکھ کر تیری رضا اور زیادہ ہو۔(1)
کلیم اور حبیب کی رضا میں فرق:
یہاں ایک نکتہ قابلِ ذکر ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے یہاں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بارے میں بتایا کہ ’’ انہوں نے خدا کی رضاچاہی ‘‘ اور اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے لیے اور مقامات پر بتایا: خدا نے ان کی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۸۳-۸۴، ص۶۹۹، روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۸۳-۸۴، ۵/۴۱۲، ملتقطاً۔