ترجمۂکنزُالعِرفان: اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور راہ نہ دکھائی۔
{وَاَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہٗ:اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا۔} یعنی فرعون نے اپنی قوم کو ایسا راستہ دکھایا جس پر چل کر وہ دین اور دنیا دونوں میں نقصان اٹھا گئے کہ کفر کی وجہ سے وہ دنیا میں ہولناک عذاب میں مبتلا ہو کر مر گئے اور اب وہ آخرت کے اَبدی عذاب کا سامنا کر رہے ہیں اور فرعون نے اپنی قوم کو کبھی ایسا راستہ نہ دکھایا جس پر چل کر وہ دین اور دنیا کی بھلائیوں تک پہنچ جاتے۔(1)
اس سے معلوم ہو ا کہ قوم کے دینی اور دُنْیَوی نقصان یا بھلائی میں قوم کے سربراہ اور حکمران کا انتہائی اہم کردار ہوتا ہے، اگر یہ سدھر جائے تو قوم دنیا میں بھی حقیقی کامیابی پا سکتی ہے اور آخرت میں بھی حقیقی فلاح سے سرفراز ہو سکتی ہے اور اگر یہ بگڑ جائے تو قوم دینی اور دنیوی دونوںاعتبار سے بے پناہ نقصان اٹھاتی ہے ۔
یٰبَنِیۡۤ اِسْرآءِیۡلَ قَدْ اَنۡجَیۡنٰکُمۡ مِّنْ عَدُوِّکُمْ وَ وٰعَدْنٰکُمْ جَانِبَ الطُّوۡرِ الْاَیۡمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیۡکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی ﴿۸۰﴾ کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَارَزَقْنٰکُمْ وَ لَاتَطْغَوْا فِیۡہِ فَیَحِلَّ عَلَیۡکُمْ غَضَبِیۡ ۚ وَ مَنۡ یَّحْلِلْ عَلَیۡہِ غَضَبِیۡ فَقَدْ ہَوٰی ﴿۸۱﴾ وَ اِنِّیۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہۡتَدٰی ﴿۸۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے بنی اسرائیل بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تمہیں طور کی د ہنی طرف کا وعدہ دیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا ۔ کھاؤ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں روزی دیں اور اس میں زیادتی نہ کرو کہ تم پر میرا غضب اترے اور جس پر میرا غضب اترا بیشک وہ گرا ۔ اور بیشک میں بہت بخشنے والا ہوں اسے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…ابو سعود، طہ، تحت الآیۃ: ۷۹، ۳/۴۸۰۔