{وَ لَقَدْ اَوْحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی:اور بیشک ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی۔} جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات دیکھ کر فرعون راہ پر نہ آیا اور اس نے نصیحت حاصل نہ کی اور وہ بنی اسرائیل پر پہلے سے زیادہ ظلم و ستم کرنے لگا تو اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف وحی فرمائی کہ راتوں رات میرے بندوں کو مصر سے لے چلو اور جب آپ لوگ دریا کے کنارے پہنچیں اور فرعونی لشکر پیچھے سے آئے تو اندیشہ نہ کرنا اور ان کے لیے اپنا عصا مار کر دریا میں خشک راستہ نکال دو۔ تجھے ڈر نہ ہوگا کہ فرعون پکڑ لے اور نہ تجھے دریا میں غرق ہونے کا خطرہ ہوگا۔(1)
فَاَتْبَعَہُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوۡدِہٖ فَغَشِیَہُمۡ مِّنَ الْـیَمِّ مَا غَشِیَہُمْ ﴿ؕ۷۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو ان کے پیچھے فرعون پڑا اپنے لشکر لے کر تو انہیں دریا نے ڈھانپ لیا جیسا ڈھانپ لیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ان کے پیچھے چل پڑا تو انہیں دریا نے ڈھانپ لیا جیساانہیں ڈھانپ لیا۔
{فَاَتْبَعَہُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوۡدِہٖ:تو فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ان کے پیچھے چل پڑا ۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللّٰہ تعالیٰ کا حکم پا کررات کے پہلے وقت میں بنی اسرائیل کو اپنے ہمراہ لے کر مصر سے روانہ ہو گئے تو فرعون قبطیوں کا لشکر لے کر ان کے پیچھے چل پڑا اور جب فرعون اپنے لشکر کے ساتھ دریا میں بنے ہوئے راستوں میں داخل ہوگیا تو انہیں دریا نے اس طرح ڈھانپ لیا اور اس کا پانی ان کے سروں سے اس طرح اونچا ہو گیا جس کی حقیقت اللّٰہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ، یوں فرعون اور اس کا لشکر غرق ہو گیا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماپنی قوم کے ساتھ فرعون کے ظلم و ستم اور دریا میں ڈوبنے سے نجات پا گئے۔(2)
وَاَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہٗ وَ مَا ہَدٰی ﴿۷۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور راہ نہ دکھائی۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…ابو سعود، الکہف، تحت الآیۃ: ۷۷، ۳/۴۷۹، مدارک، الکہف، تحت الآیۃ: ۷۷، ص۶۹۸، ملتقطاً۔
2…مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۷۸، ص۶۹۸، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۷۸، ۳/۲۵۹، ملتقطاً۔