Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
212 - 695
اور جو اس کے حضور ایمان کے ساتھ آئے کہ اچھے کام کئے ہوں تو انہیں کے درجے اونچے ۔  بسنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اور یہ صلہ ہے اس کا جو پاک ہوا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جو اپنے رب کے حضور مجرم ہوکر آئے گاتو ضرور اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ مرے گا اور نہ (ہی چین سے)زندہ رہے گا۔  اور جو اس کے حضور ایمان والا ہوکر آئے گاکہ اس نے نیک اعمال کئے ہوں تو ان کیلئے بلند درجات ہیں۔ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں،ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ اس کی جزا ہے جو پاک ہوا۔
{اِنَّہٗ مَنۡ یَّاۡتِ رَبَّہٗ مُجْرِمًا:بیشک جو اپنے رب کے حضور مجرم ہوکر آئے گا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ جادو گروں کے کلام کا حصہ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہاں سے اللّٰہ تعالیٰ کا کلام شروع ہو رہا ہے، اور ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور فرعون کی طرح کافر ہوکر آئے گا تو ضرور اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ مرے گا کہ مرکر ہی اس سے چھوٹ سکے اور نہ ہی اس طرح زندہ رہے گا جس سے کچھ نفع اٹھا سکے اور جن کا ایمان پر خاتمہ ہوا ہو اور انہوں نے اپنی زندگی میں نیک عمل کئے ہوں ، فرائض اور نوافل بجا لائے ہوں تو ان کیلئے بلند درجات ہیں اور وہ درجات ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ اس کی جزا ہے جو کفر کی نجاست اور گناہوں کی گندگی سے پاک ہوا۔(1)
{فَاُولٰٓئِکَ لَہُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی:تو ان کیلئے بلند درجات ہیں۔} ارشاد فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے بلند درجات ہیں۔ بلند درجات والوں کے مقام کے بارے میں سننِ ترمذی اورا بنِ ماجہ میں حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ’’بلند درجات والوں کو نچلے درجات والے ایسے دیکھیں گے جیسے تم اُفق میں طلوع ہونے والے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ان میں سے ہیں اوریہ اسی کے اہل ہیں۔(2)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۷۴، ۳/۲۵۹۔
2…ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ۔۔۔ الخ، ۵/۳۷۲، الحدیث: ۳۶۷۸۔