مجبور کیا تھا اور اللّٰہ بہتر ہے اور سب سے زیادہ باقی رہنے والاہے۔
{اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا:بیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے۔} جادوگروں نے کہا کہ بیشک ہم اپنے رب عَزَّوَجَلَّپر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے اور وہ جادو بھی جس پر تو نے ہمیں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مقابلے میں مجبور کیا تھا ۔اور اگر ہم اللّٰہ تعالیٰ کی طاعت کریں تو وہ تیرے مقابلے میں فرمانبرداروں کو ثواب دینے میں بہتر ہے اور اگر ہم اس کی نافرمانی کریں تو وہ نافرمانوں پر عذاب کرنے کے لحاظ سے سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
فرعون نے جادوگروں کو جو جادو پر مجبور کیا تھا اس کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا کہ فرعون نے جب جادوگروں کو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے بلایا تو جادوگروں نے فرعون سے کہا تھا کہ ہم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں ،چنانچہ اس کی کوشش کی گئی اور انہیں ایسا موقع فراہم کر دیا گیا ، انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خواب میں ہیں اور عصاء شریف پہرہ دے رہا ہے۔ یہ دیکھ کر جادوگروں نے فرعون سے کہا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جادوگر نہیں، کیونکہ جادوگر جب سوتا ہے تو اس وقت اس کا جادو کام نہیں کرتا مگر فرعون نے انہیں جادو کرنے پر مجبور کیا ۔ اس کی مغفرت کے وہ جادوگر اللّٰہ تعالیٰ سے طالب اور امیدوار ہیں۔(1)
اِنَّہٗ مَنۡ یَّاۡتِ رَبَّہٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَہٗ جَہَنَّمَ ؕ لَایَمُوۡتُ فِیۡہَا وَ لَا یَحْیٰی ﴿۷۴﴾ وَ مَنْ یَّاۡتِہٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِکَ لَہُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی ﴿ۙ۷۵﴾ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَذٰلِکَ جَزَآؤُا مَنۡ تَزَکّٰی ﴿۷۶﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: بیشک جو اپنے رب کے حضور مجرم ہوکر آئے تو ضرور اس کے لئے جہنم ہے جس میں نہ مرے نہ جئے۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۷۳، ۳/۲۵۹۔