نہیں، یوں تو ہر نبی زندہ ہے: اِنَّ اللّٰہَ حرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِ فَنَبِیُّ اللّٰہِ حَیٌّ یُّرْزَقُ۔ بے شک اللّٰہ نے حرام کیا ہے زمین پر کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جسموںکوخراب کرے تو اللّٰہ کے نبی زندہ ہیں روزی دیئے جاتے ہیں۔(1)اَنبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر ایک آن کو محض تصدیقِ وعدئہ الٰہیہ کے لیے موت طاری ہوتی ہے، بعد اِس کے پھر اُن کو حیاتِ حقیقی حِسّی دُنْیَوی عطا ہوتی ہے۔ خیر اِن چاروں میں سے دو آسمان پر ہیں اور دو زمین پر۔ خضر و الیاس عَلَیْہِمَا السَّلَام زمین پر ہیں اور ادریس و عیسیٰ عَلَیْہِمَا السَّلَام آسمان پر۔(2)
وَ یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنۡ ذِی الْقَرْنَیۡنِ ؕ قُلْ سَاَتْلُوۡ عَلَیۡکُمۡ مِّنْہُ ذِکْرًا ﴿ؕ۸۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور تم سے ذوالقرنین کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ میں تمہیں اس کا مذکور پڑھ کر سناتا ہوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور آپ سے ذوالقرنین کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ تم فرماؤ: میں عنقریب تمہارے سامنے اس کا ذکر پڑھ کر سناتا ہوں۔
{وَ یَسْـَٔلُوۡنَکَ:اور آپ سے سوال کرتے ہیں۔} سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 85 کی تفسیر میں بیان ہو اتھا کہ کفارِ مکہ نے یہودیوں کے مشورے سے سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اصحابِ کہف اور حضرت ذوالقر نین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں سوال کیا۔ سورۂ کہف کی ابتدا میں اصحابِ کہف کا قصہ تفصیل سے بیان کر دیا گیا اور اب حضرت ذوالقر نینرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں بتایا جارہا ہے۔
حضرت ذوالقرنینرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مختصر تعارف:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نام اسکندر اور ذوالقر نین لقب ہے۔ مفسرین نے اس لقب کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں، ان میں سے 4 یہاں بیان کی جاتی ہیں:
(1)…آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سورج کے طلوع اور غروب ہونے کی جگہ تک پہنچے تھے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ۲/۲۹۱، الحدیث: ۱۶۳۷۔
2…ملفوظات، حصہ چہارم، ص۴۸۴۔