یمان کی دولت سے مشرف فرما دیا۔(1)
قَالَ بَلْ اَلْقُوۡا ۚ فَاِذَا حِبَالُہُمْ وَ عِصِیُّہُمْ یُخَیَّلُ اِلَیۡہِ مِنۡ سِحْرِہِمْ اَنَّہَا تَسْعٰی ﴿۶۶﴾ فَاَوْجَسَ فِیۡ نَفْسِہٖ خِیۡفَۃً مُّوۡسٰی ﴿۶۷﴾ قُلْنَا لَاتَخَفْ اِنَّکَ اَنۡتَ الْاَعْلٰی ﴿۶۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: موسیٰ نے کہا بلکہ تمہیں ڈالو جبھی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں ۔ تو اپنے جی میں موسیٰ نے خوف پایا۔ ہم نے فرمایا ڈر نہیں بیشک تو ہی غالب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: موسیٰ نے فرمایا: بلکہ تمہی ڈالو تواچانک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے موسیٰ کے خیال میں یوں لگیں کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔ تو موسیٰ نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا۔ توہم نے فرمایا: ڈرو نہیں بیشک تم ہی غالب ہو۔
{قَالَ بَلْ اَلْقُوۡا:موسیٰ نے فرمایا: بلکہ تمہی ڈالو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جادو گروں سے یہ اس لئے فرمایا کہ اُن کے پاس جو کچھ جادو کے مکر و حیلے ہیں پہلے وہ سب ظاہر کرلیں اس کے بعد آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنا معجزہ دکھائیں اور جب حق باطل کو مٹائے اور معجزہ جادو کو باطل کردے تو دیکھنے والوں کو بصیرت و عبرت حاصل ہو۔ چنانچہ جادوگروں نے رسیاں لاٹھیاں وغیرہ جو سامان وہ لائے تھے سب ڈال دیا اور لوگوں کی نظر بندی کر دی توحضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے دیکھا کہ زمین سانپوں سے بھر گئی اور میلوں کے میدان میں سانپ ہی سانپ دوڑ رہے ہیں اور دیکھنے والے اس باطل نظر بندی سے مَسحور ہو گئے، اور کہیں ایسا نہ ہو کہ بعض لوگ معجزہ دیکھنے سے پہلے ہی اس نظر بندی کے گرویدہ ہو جائیں اور معجزہ نہ دیکھیں ،اس وجہ سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے دل میں قوم کے حوالے سے خوف محسوس کیا۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انسانی فطرت کے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۶۵، ص۶۹۵۔