ترجمۂکنزُالعِرفان: تو فرعون منہ پھیر کر چلا گیا تو اپنے مکروفریب کو جمع کرنے لگا پھر آیا ۔ان سے موسیٰ نے فرمایا: تمہاری خرابی ہو ، تم اللّٰہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاک کردے گا اور بیشک وہ ناکام ہوا جس نے جھوٹ باندھا۔
{فَتَوَلّٰی فِرْعَوْنُ:تو فرعون منہ پھیر کر چلا گیا۔} جب مقابلہ کادن طے ہوگیا تو فرعون منہ پھیر کر چلا گیا اور اس نے مقابلے کے لیے کثیر تعداد میں جادوگروں کوجمع کیا اور انہیں طرح طرح کے انعامات کا لالچ دیا حتّٰی کہ انہیں اپنا مُقرب بنانے کا وعدہ کیا ۔ اس کے بعد پھر بڑی شان وشوکت کے ساتھ اپنی فوج کولے کر وعدے کے دن میدان میں پہنچ گیا۔
{قَالَ لَہُمۡ مُّوۡسٰی وَ یۡلَکُمْ:ان سے موسیٰ نے فرمایا: تمہاری خرابی ہو۔} جب فرعون اور اس کے جمع کردہ جادو گر مقابلہ کے لیے پہنچ گئے توحضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان جادو گروں سے فرمایا ’’ تمہاری خرابی ہو ، تم کسی کو اللّٰہ تعالیٰ کا شریک کر کے اس پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ وہ تمہیں اپنے پاس موجود عذاب سے ہلاک کردے گا اور بیشک وہ ناکام ہوا جس نے اللّٰہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا۔(1)
فَتَنَازَعُوۡۤا اَمْرَہُمۡ بَیۡنَہُمْ وَاَسَرُّواالنَّجْوٰی ﴿۶۲﴾ قَالُوۡۤا اِنْ ہٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیۡدٰنِ اَنۡ یُّخْرِجٰکُمۡ مِّنْ اَرْضِکُمۡ بِسِحْرِہِمَا وَ یَذْہَبَا بِطَرِیۡقَتِکُمُ الْمُثْلٰی ﴿۶۳﴾ فَاَجْمِعُوۡا کَیۡدَکُمْ ثُمَّ ائْتُوۡا صَفًّا ۚ وَقَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰی ﴿۶۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو اپنے معاملہ میں باہم مختلف ہوگئے اور چھپ کر مشورت کی۔ بولے بیشک یہ دونوں ضرور جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری زمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال دیں اور تمہارا اچھا دین لے جائیں۔ تو اپنا دانؤں پکا کرلو پھر پرا باندھ کر آؤ اور آج مراد کو پہنچا جو غالب رہا۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…جلالین، طہ، تحت الآیۃ: ۶۱، ص۲۶۳-۲۶۴۔