Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
203 - 695
کمال کا اظہار ہے، نیز اس میں یہ بھی حکمت تھی کہ حق کا ظہور اور باطل کی رسوائی کے لئے ایسا ہی وقت مناسب ہے جب کہ اَطراف و جوانب کے تمام لوگ اکھٹے ہوں۔(1)
کفار کے میلے میں جانے کا شرعی حکم:
	اس سے معلوم ہوا کہ شرعی ضرورت کے وقت مسلمان کو کفا رکے میلے میں جانا جائز ہے جیسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مقابلہ کے لئے کفار کے میلہ میں گئے اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بت شکنی کے لئے بت خانہ میں گئے۔ اور شرعی ضرورت کے علاوہ تجارت یاکسی اور غرض سے جانے کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ میلہ کفار کا مذہبی ہے جس میں جمع ہوکر اعلانِ کفر اور شرکیہ رسمیں ادا کریں تو تجارت کی غرض سے بھی جانا ناجائز ومکروہِ تحریمی ہے، اور ہر مکروہِ تحریمی صغیرہ، اور ہر صغیرہ اِصرار سے کبیرہ گناہ بن جاتا ہے۔ اور اگر وہ مجمع کفار کا مذہبی نہیں بلکہ صرف لہوولعب کامیلہ ہے تو محض تجارت کی غرض سے جانا فی نفسہٖ ناجائز وممنوع نہیں جبکہ یہ کسی گناہ کی طرف نہ لے جاتا ہو۔ پھر بھی کراہت سے خالی نہیں کہ وہ لوگ ہروقت مَعَاذَاللّٰہ لعنت اترنے کامحل ہیں اس لئے اُن سے دوری ہی بہتر ہے۔۔۔نیز یہ جواز بھی اُسی صورت میں ہے کہ اسے وہاں جانے میں کسی معصیت کاارتکاب نہ کرنا پڑے مثلاً جلسہ ناچ رنگ کا ہو اور اسے اس جلسے سے دور اور لاتعلق علاقے میں جگہ نہ ہو تو یہ جانا معصیت کو مستلزم ہوگا اور ہر وہ چیز جو معصیت کومستلزم ہووہ معصیت ہوتی ہے اور یہ جانا محض تجارت کی غرض سے ہو نہ کہ تماشا دیکھنے کی نیت سے کیونکہ اس نیت سے جانا مطلقاً ممنوع ہے اگرچہ وہ مجمع غیرمذہبی ہو۔(2)
فَتَوَلّٰی فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ کَیۡدَہٗ ثُمَّ اَتٰی ﴿۶۰﴾ قَالَ لَہُمۡ مُّوۡسٰی وَ یۡلَکُمْ لَا تَفْتَرُوۡا عَلَی اللہِ کَذِبًا فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذَابٍ ۚ وَقَدْخَابَ مَنِ افْتَرٰی ﴿۶۱﴾
ترجمۂکنزالایمان:تو فرعون پھرا اور اپنے دانؤں اکٹھے کیے پھر آیا ۔ان سے موسیٰ نے کہا تمہیں خرابی ہو اللّٰہ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاک کردے اور بیشک نامراد رہا جس نے جھوٹ باندھا ۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۵۹، ۳/۲۵۶-۲۵۷، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۵۹، ص۶۹۴، جمل، طہ، تحت الآیۃ: ۵۹، ۵/۸۰، ملتقطاً۔
2…فتاوی رضویہ، ۲۳/۵۲۳-۵۲۶،ملخصاً۔