Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
202 - 695
عطا فرمائی تھیں تو اس نے انہیں جھٹلایا اور نہ مانا اور ان نشانیوں کو جادو بتایا اور حق قبول کرنے سے انکار کیا اور کہنے لگا: اے موسیٰ! کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اپنے جادو کے ذریعے ہماری سرزمین مصرسے نکال کر خود اس پر قبضہ کرلو اور بادشاہ بن جاؤ۔ تو ضرور ہم بھی تمہارے آگے ویسا ہی جادو لائیں گے اور جادو میں ہمارا تمہارا مقابلہ ہو گا تو ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک مدت اور جگہ مقرر کرلو جس کی خلاف ورزی نہ ہم کریں اور نہ تم اور وہ جگہ ہموار ہو اور اس میں دونوں فریقین کے درمیان برابر فاصلہ ہو تاکہ لوگ آسانی کے ساتھ مقابلہ دیکھ سکیں۔(1)
	فرعون حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات دیکھ کر سمجھ تو گیا تھا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامحق پر ہیں اور جادوگر نہیں ہیں کیونکہ اس کے ملک میں اس سے پہلے بھی کئی جادوگر موجود تھے جو خود اس کے ماتحت تھے اور کسی نے بھی کبھی ایسی بات نہ کی تھی لیکن پھر بھی اس نے کوشش کی کہ کسی طرح حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شکست ہوجائے اور اس کی سلطنت بچ جائے۔
قَالَ مَوْعِدُکُمْ یَوْمُ الزِّیۡنَۃِ وَ اَنۡ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًی ﴿۵۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: موسیٰ نے کہا تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کیے جائیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: موسیٰ نے فرمایا: تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کرلئے جائیں۔
{قَالَ:موسیٰ نے فرمایا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرعون کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے اور اس دن یہ بھی ہونا چاہئے کہ لوگ دن چڑھے جمع کرلئے جائیں تاکہ خوب روشنی پھیل جائے اور دیکھنے والے اطمینان کے ساتھ دیکھ سکیں اور انہیں ہر چیز صاف صاف نظر آئے ۔ اس آیت میں جس میلے کا ذکر ہوا اس سے فرعونیوں کا وہ میلہ مراد ہے جو ان کی عید تھی اور اس میں وہ بہت سج سنور کر جمع ہوتے تھے ۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ وہ دن عاشوراء یعنی دسویں محرم کا تھا۔ اس سال یہ تاریخ ہفتے کے دن واقع ہوئی تھی اور اس دن کو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اس لئے معین فرمایا کہ یہ دن ان کی انتہائی شوکت کا دن تھا اور اسے مقرر کرنے میں اپنی قوت کے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۵۶-۵۸، ۳/۲۵۶، مدارک، ، طہ، تحت الآیۃ: ۵۶-۵۸، ص۶۹۴، ملتقطاً۔