Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
201 - 695
میت کی تدفین کے بعد ایک مُسْتحب عمل:
	یہاں ایک بات یاد رہے کہ جب کسی مسلمان کو انتقال کے بعد دفن کر دیا جائے اور اس کی قبر پرتختے لگانے کے بعد مٹی دی جائے تو اس وقت مستحب یہ ہے کہ ا س کے سرہانے کی طرف دونوں ہاتھوں سے تین بار مٹی ڈالیں۔ پہلی بار کہیں ’’مِنْہَا خَلَقْنٰکُمْ‘‘ دوسری بار ’’وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمْ‘‘ اورتیسری بار ’’وَ مِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی‘‘ کہیں۔(1)
وَلَقَدْ اَرَیْنٰہُ اٰیٰتِنَاکُلَّہَا فَکَذَّبَ وَاَبٰی ﴿۵۶﴾ قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۵۷﴾ فَلَنَاۡتِیَنَّکَ بِسِحْرٍ مِّثْلِہٖ فَاجْعَلْ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُہٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنۡتَ مَکَانًا سُوًی ﴿۵۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے اسے اپنی سب نشانیاں دکھائیں تو اس نے جھٹلایا اور نہ مانا۔ بولا کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اپنے جادو کے سبب ہماری زمین سے نکال دو اے موسیٰ۔ تو ضرور ہم بھی تمہارے آگے ویسا ہی جادو لائیں گے تو ہم میں اور اپنے میں ایک وعدہ ٹھہرا دو جس سے نہ ہم بدلہ لیں نہ تم ہموار جگہ ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے اس کواپنی سب نشانیاں دکھائیں تو اس نے جھٹلایا اور نہ مانا ۔ کہنے لگا: اے موسیٰ! کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اپنے جادو کے ذریعے ہماری سرزمین سے نکال دو۔ تو ضرور ہم بھی تمہارے آگے ویسا ہی جادو لائیں گے تو ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدہ مقرر کرلو جس کی خلاف ورزی نہ ہم کریں اور نہ تم۔ایسی جگہ جو برابر فاصلے پر ہو۔
{وَلَقَدْ اَرَیْنٰہُ اٰیٰتِنَاکُلَّہَا:اور بیشک ہم نے اس کواپنی سب نشانیاں دکھائیں۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرعون کو وہ تمام نو نشانیاں دکھا دیں جو اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…عالمگیری، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل السادس، ۱/۱۶۶۔