Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
19 - 695
	 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’جب عام صالحین کی صلاح (یعنی تقویٰ و پرہیزگاری) ان کی نسل واولاد کو دین ودنیا وآخرت میں نفع دیتی ہے تو صدیق وفاروق وعثمان وعلی وجعفر وعباس وانصار کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی صلاح کا کیا کہنا جن کی اولاد میں شیخ، صدیقی وفاروقی وعثمانی وعلوی وجعفری وعباسی وانصاری ہیں۔ یہ کیوں نہ اپنے نسبِ کریم سے دین ودنیا وآخرت میں نفع پائیں گے۔ پھر اللّٰہ اکبر حضرات عُلْیَہ سادات کرام اولادِ امجاد حضرت خاتونِ جنت بتول زہرا کہ حضور پُر نور، سیدالصالحین ،سید العالمین ،سید المرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہ وَسَلَّمَ کے بیٹے ہیں کہ ان کی شان تو ارفع واعلیٰ وبلند وبالا ہے۔(1)
{ذٰلِکَ تَاۡوِیۡلُ مَا:یہ ان باتوں کا اصل مطلب ہے ۔} حضرت عبداللّٰہ بن احمد نسفیرَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’بعض لوگ (اس آیت کی وجہ سے ) ولی کو نبی پر فضیلت دے کر گمراہ ہوگئے اوردر حقیقت ولی کو نبی پر فضیلت دینا کفر ِجَلی ہے، ان لوگوں نے یہ خیال کیا کہ حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو حضرتِ خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے علم حاصل کرنے کا حکم دیا گیا حالانکہ حضرت خضرعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ولی ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبی ہیں اور اگر ایسا نہ ہو جیسا کہ بعض کا گمان ہے تو یہ اللّٰہ  تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حق میں اِبتلا یعنی آزمائش ہے۔(2)
حضرت خضرعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام زندہ ہیں :
	یہاں یہ یاد رہے کہ اکثر علماء کا مَوقف یہ ہے ،نیز مشائخ صوفیہ اور اصحابِ عرفان کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامزندہ ہیں۔ شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاویٰ میں فرمایا کہ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جمہور علماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں ۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت خضر اور حضرت الیاس عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دونوں زندہ ہیں اور ہر سال زمانۂ حج میں ملتے ہیں ۔ یہ بھی منقول ہے کہ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چشمۂ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی پیا۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم(3)
	اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’چار نبی زندہ ہیں کہ اُن کو وعدۂ الٰہیہ ابھی آیا ہی 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…فتاوی رضویہ، ۲۳/۲۴۳-۲۴۴۔
2…مدارک، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۲، ص۶۶۱۔
3…خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۲، ۳/۲۲۲۔