نہ پھیر سکے ۔ مزید فرمایا کہ میرا رب عَزَّوَجَلَّ نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ گویا فرمایا کہ تمام اَحوال کا لوحِ محفوظ میں لکھنا، اس لئے نہیں کہ رب تعالیٰ کے بھولنے بہکنے کا اندیشہ ہے بلکہ یہ تحریر اپنی دوسری حکمتوں کی وجہ سے ہے جیسے فرشتوں اور اپنے محبوب بندوں کو اطلاع دینے کیلئے ہے جن کی نظر لوحِ محفوظ پر ہے۔
الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مَہۡدًا وَّسَلَکَ لَکُمْ فِیۡہَا سُبُلًا وَّ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ؕ فَاَخْرَجْنَا بِہٖۤ اَزْوٰجًا مِّنۡ نَّبَاتٍ شَتّٰی ﴿۵۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اور تمہارے لیے اس میں چلتی راہیں رکھیں اور آسمان سے پانی اتارا تو ہم نے اس سے طرح طرح کے سبزے کے جوڑے نکالے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور تمہارے لیے اس میں راستے آسان کردئیے اور آسمان سے پانی نازل فرمایا تو ہم نے اس سے مختلف قسم کی نباتات کے جوڑے نکالے ۔
{الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مَہۡدًا:وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مزید فرمایا کہ میرا ربعَزَّوَجَلَّ وہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا تاکہ تمہارے لئے اس پر زندگی بسر کرنا ممکن ہو اور تمہارے لیے اس میں راستے آسان کردیے تاکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں تمہیں آسانی ہو اوراس نے آسمان سے پانی نازل فرمایا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کلام تو یہاں پورا ہو گیا اب اس کلام کو مکمل کرتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ اہلِ مکہ کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اے اہلِ مکہ !تو ہم نے اس پانی سے مختلف قسم کی نباتات کے جوڑے نکالے جن کے رنگ،خوشبوئیں اور شکلیں مختلف ہیں اور ان میں سے بعض آدمیوں کے لئے ہیں اور بعض جانوروں کے لئے۔(1)
کُلُوۡا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَکُمْ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّہٰی ﴿٪۵۴﴾
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۵۳، ۳/۲۵۶، جلالین، طہ، تحت الآیۃ: ۵۳، ص۲۶۳۔