Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
198 - 695
قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوۡنِ الْاُوۡلٰی ﴿۵۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: بولا اگلی سنگتوں کا کیا حال ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: فرعون بولا: پہلی قوموں کا کیا حال ہے؟ 
{قَالَ:فرعون بولا۔} جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی وحدانیت اور اس کے رب عَزَّوَجَلَّ ہونے پر اتنی واضح دلیل دی توفرعون گھبرا گیا اور اس کواپنی خود ساختہ خدائی تباہ ہوتی نظر آئی تو اس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی توجہ بدلنے کے لیے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کودوسری باتوں میں الجھانے لگا اور کہنے لگا کہ جو پہلی قومیں گزر چکی ہیں مثلاً قومِ عاد، قومِ ثمودوغیرہ اور وہ بتوں کوپوجتی تھیں اور مرنے کے بعد زندہ کیے جانے کی منکر تھیں ان کا کیا ہوا۔(1)
قَالَ عِلْمُہَا عِنۡدَ رَبِّیۡ فِیۡ کِتٰبٍۚ لَایَضِلُّ رَبِّیۡ وَ لَایَنۡسَی ﴿۫۵۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: کہا ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے میرا رب نہ بہکے نہ بھولے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: موسیٰ نے فرمایا: ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے، میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ 
{قَالَ:موسیٰ نے فرمایا۔} فرعون کی بات سن کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: پہلی قوموں کے حال کا علم میرے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس ایک کتاب لَوحِ محفوظ میں ہے جس میں ان کے تمام اَحوال لکھے ہوئے ہیں اور قیامت کے دن انہیں ان اعمال پر جزا دی جائے گی ۔
	یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جو جواب دیا کہ اس کاعلم لوحِ محفوظ میں ہے اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ آپ کوگذشتہ قوموں کے حالات معلوم نہ تھے بلکہ وجہ یہ تھی کہ وہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوتبلیغ ِدین سے 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳/۲۵۵۔