Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
192 - 695
کر جاؤ اور ہر حال میں میرا ذکر کرتے رہنا،تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ بیشک اس نے رب ہونے کا دعویٰ کر کے سرکشی کی ہے۔(1)
	اِس آیت سے ذکرِ الٰہی کے نہایت مرغوب و مطلوب ہونے کا بھی پتہ چلتا ہے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ مُبَلِّغ کو تبلیغ کے ساتھ ذکر ِ الٰہی کو بھی اپنا معمول رکھنا چاہیے۔
فَقُوۡلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی ﴿۴۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یا کچھ ڈرے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: توتم اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈرجائے۔ 
{فَقُوۡلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا:توتم اس سے نرم بات کہنا ۔} یعنی جب تم فرعون کے پاس جاؤ تو اسے نرمی کے ساتھ نصیحت فرمانا۔ بعض مفسرین کے نزدیک فرعون کے ساتھ نرمی کا حکم اس لئے تھا کہ اس نے بچپن میں حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت کی تھی اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ نرمی سے مراد یہ ہے کہ آپ اس سے وعدہ کریں کہ اگر وہ ایمان قبول کرے گا تو تمام عمر جوان رہے گا کبھی بڑھاپا نہ آئے گا ، مرتے دم تک اس کی سلطنت باقی رہے گی ، کھانے پینے اور نکاح کی لذتیں تادمِ مرگ باقی رہیں گی ا ور مرنے کے بعد جنت میں داخلہ نصیب ہو گا ۔ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرعون سے یہ وعدے کئے تو اسے یہ بات بہت پسند آئی لیکن وہ کسی کام پر ہامان سے مشورہ لئے بغیر قطعی فیصلہ نہیں کرتا تھا اور اس وقت ہامان موجود نہ تھا (اس لئے ا س نے کوئی فیصلہ نہ کیا) جب وہ آیا تو فرعون نے اسے یہ خبر دی اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ہدایت پر ایمان قبول کر لوں۔ یہ سن کر ہامان کہنے لگا: میں تو تجھے عقلمند اور دانا سمجھتا تھا (لیکن یہ کیا کہ ) تو رب ہے اور بندہ بننا چاہتا ہے ، تو معبود ہے اور عابد بننے کی خواہش کرتا ہے ؟ فرعون نے کہا: تو نے ٹھیک کہا (یوں وہ ایمان قبول کرنے سے محروم رہا)۔(2)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۴۲-۴۳،۵/۳۸۶-۳۸۸۔
2…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳/۲۵۴۔