{لَعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی:اس امید پر کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈرجائے۔} یعنی آپ کی تعلیم اور نصیحت اس امید کے ساتھ ہونی چاہیے کہ آپ کواجر و ثواب ملے اور اس پر حجت لازم ہو جائے اور اس کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے اور حقیقت میں ہونا تو وہی ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔(1)
نرمی کے فضائل:
اس آیت سے معلوم ہو اکہ دین کی تبلیغ نرمی کے ساتھ کرنی چاہیے اور تبلیغ کرنے والے کوچاہیے کہ وہ پیار محبت سے نصیحت کرے کیونکہ اس طریقے سے کی گئی نصیحت سے یہ امید ہوتی ہے کہ سامنے والا نصیحت قبول کر لے یا کم از کم اپنے گناہ کے معاملے میں اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرے۔ نیز یاد رہے کہ دین کی تبلیغ کے علاوہ دیگر دینی اور دُنْیَوی معاملات میں بھی جہاں تک ممکن ہو نرمی سے ہی کام لینا چاہئے کہ جو فائدہ نرمی کرنے سے حاصل ہو سکتا ہے وہ سختی کرنے کی صورت میں حاصل ہو جائے یہ ضروری نہیں۔ ترغیب کے لئے یہاں نرمی کے فضائل پر مشتمل 4 اَحادیث درج ذیل ہیں۔
(1)…حضرت جریر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جو شخص نرمی سے محروم رہاوہ بھلائی سے محروم رہا۔(2)
(2)…حضرت ابو درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس شخص کو نرمی سے حصہ دیا گیا اسے بھلائی سے حصہ دیا گیا اور جسے نرمی کے حصے سے محروم رکھا گیا اسے بھلائی کے حصے سے محروم رکھا گیا۔(3)
(3)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اے عائشہ! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا، اللّٰہ تعالیٰ رفیق ہے اور رِفق یعنی نرمی کو پسند فرماتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ نرمی کی وجہ سے وہ چیزیں عطا کرتا ہے جو سختی یا کسی اور وجہ سے عطا نہیں فرماتا۔(4)
(4)…اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۴۴، ص۶۹۲، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳/۲۵۵، ملتقطاً۔
2…مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل الرفق، ص۱۳۹۸، الحدیث: ۷۴(۲۵۹۲)۔
3…ترمذی، کتاب البرّ والصلۃ، باب ما جاء فی الرفق، ۳/۴۰۷، الحدیث: ۲۰۲۰۔
4…مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل الرفق، ص۱۳۹۸، الحدیث: ۷۷(۲۵۹۳)۔