کے فاصلہ پر ایک شہر ہے، یہاں حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام رہتے تھے ۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مصر سے مدین آئے اور کئی برس تک حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس اقامت فرمائی اور ان کی صاحبزادی صفوراء کے ساتھ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نکاح ہوا۔(1)
{ثُمَّ جِئْتَ عَلٰی قَدَرٍ یّٰمُوۡسٰی: پھر اے موسیٰ! تم ایک مقررہ وعدے پر حاضر ہوگئے۔} یعنی اپنی عمر کے چالیسویں سال حاضر ہو گئے اور یہ وہ سال ہے کہ اس میں انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف وحی کی جاتی ہے۔(2)
{وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِیۡ :اور میں نے تجھے خاص اپنی ذات کیلئے بنایا۔} ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، میں نے تجھے خاص اپنی وحی اور رسالت کے لئے بنایا تاکہ تو میرے ارادے اور میری محبت کے مطابق تَصَرُّف کرے اور میری حجت پر قائم رہے اور میرے اور میری مخلوق کے درمیان خطاب پہنچانے والا ہو۔(3)
اِذْہَبْ اَنۡتَ وَاَخُوۡکَ بِاٰیٰتِیۡ وَلَاتَنِیَا فِیۡ ذِکْرِیۡ ﴿ۚ۴۲﴾ اِذْہَبَاۤ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی ﴿ۚۖ۴۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو اور تیرا بھائی دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔ دونوں فرعون کے پاس جاؤ بیشک اس نے سر اٹھایا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم اور تمہارا بھائی دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔دونوں فرعون کی طرف جاؤ بیشک اس نے سرکشی کی ہے۔
{اِذْہَبْ اَنۡتَ وَاَخُوۡکَ بِاٰیٰتِیۡ:تم اور تمہارا بھائی دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ!عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، تم اور تمہارا بھائی میرے دئیے ہوئے معجزات اور نشانیاں لے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۴۰، ۳/۲۵۴۔
2…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۴۰، ۳/۲۵۴۔
3…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۴۱، ۳/۲۵۴۔