Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
190 - 695
رکھ لیا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکواپنا بیٹابنالیا مگر جب دودھ پلانے کے لیے دائیاں حاضر کی گئیں تو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کسی بھی دائی کادودھ قبول نہ کیا، اس پر آپ کی بہن نے کہا کہ مصر میں ایک اور دائی بھی ہے جس کا دودھ نہایت عمدہ ہے، یہ بچہ اس کادودھ پی لے گا۔ چنانچہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ کوبلایا گیا تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دودھ پینا شروع کردیا، یوں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوپرورش کے لیے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ کے سپرد کر دیا گیا اور اللّٰہ تعالیٰ کافرمان پورا ہوا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں۔
{وَقَتَلْتَ نَفْسًا:اور تم نے ایک آدمی کو قتل کردیا۔} یہاں سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا گزشتہ زمانے میں ہونے والا ایک اور واقعہ ذکر کیا جا رہا ہے۔ اس کے بارے میںحضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرعون کی قوم کے ایک کافر کو مارا تو وہ مرگیا تھا ۔ اس واقعہ پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فرعون کی طرف سے اندیشہ ہوا تو اللّٰہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قتل کے غم سے نجات دی۔(1)
{وَفَتَنّٰکَ فُتُوۡنًا:اور تمہیں اچھی طرح آزمایا۔} حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں’’ فُتون کا معنی ہے ایک آزمائش کے بعد دوسری آزمائش میں مبتلا ہونا اور اللّٰہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوان آزمائشوں سے نجات عطا فرمائی۔ ان میں سے پہلی آزمائش تویہ تھی کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ محترمہ کو اس سال حمل ہوا جس سال فرعون ہر پیدا ہونے والے بچے کو ذبح کروا دیتا تھا۔ دوسری آزمائش یہ تھی کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دریائے نیل میں ڈال دیا گیا۔ تیسری آزمائش یہ تھی کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی والدہ کے سوا کسی کا دودھ قبول نہ کیا۔ چوتھی آزمائش یہ تھی کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بچپن میں فرعون کی داڑھی کھینچی جس کی وجہ سے اس نے آپ کوقتل کرنے کا اراد کرلیا۔ پانچویں آزمائش یہ تھی کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے موتی کے بدلے انگارہ منہ میں لے لیا۔ چھٹی آزمائش یہ تھی کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ظالم قبطی (فرعونی) کو تھپڑ مار کر قتل کر دیا اور فرعون کے خوف سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممَدْیَن کی طرف تشریف لے گئے۔(2)
{فَلَبِثْتَ سِنِیۡنَ فِیۡۤ اَہۡلِ مَدْیَنَ:پھر تم کئی برس مدین والوں میں رہے۔} مدین ، مصر سے آٹھ منزل (تقریباً 144 میل)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۴۰، ۳/۲۵۴۔
2…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۴۰، ۳/۲۵۴۔